Brailvi Books

فیضانِ صدیق اکبر
107 - 691
نے دیکھ لی ؟‘‘ تو وہ کہنے لگا: ’’ اس کے ذمہ دار تم خود ہو (یعنی تمہیں کس نے کہاتھا کہ اپنے آباء واجداد کا دین چھوڑ کر مسلمان ہوجاؤ،یہ تمہارے مسلمان ہونے کی سزاہے)آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے یہ سنا توتین بار بارگاہ خداوندی میں عرض کیا: ’’یا اللہ عَزَّ وَجَلَّ تو سب سےبڑاحلیم ہے۔‘‘ (البدایۃ والنھایۃ، ج۲، ص۴۵۲، الریاض النضرۃ،  ج۱، ص۹۴)
گردن میں کپڑے کا پھندا
حضرت سیدناعروہ بن زبیر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ   فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت سیدنا عبداللہ بن عمر و بن عاص رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے پوچھاکہ’’مشرکین نے خَاتَمُ الْمُرْسَلِیْن،رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو سب سے بڑی تکلیف کب دی ؟‘‘ فرمایا:’’ایک بار میں نے دیکھاکہ سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کعبۃ اللہشریف میں نمازادافرمارہے ہیں،اتنے میں عقبہ بن ابی معیط نے آکر آپ کی گردن میں کپڑے کا پھندا ڈال دیا اور اسے زورسے کھینچنے ہی والا تھا کہ اچانک وہاں حضرت سیدناابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ آگئے اور عقبہ کو دونوں کندھوں سے پکڑ کر دور پھینکا اور آپ کو چھڑا لیا۔فرمایا:’’کیا تم ایسے شخص کو قتل کرنا چاہتے ہو جو کہتا ہے میرا رب صرف اللہہے اور اس پر تمہارے سامنے اپنے رب کی طرف سے قوی دلائل بھی پیش کرچکاہے۔‘‘
 (صحیح البخاری،  فضائل اصحاب النبی، باب قول النبی لوکنت۔۔۔الخ، الحدیث: ۳۶۷۸، ج۲، ص۵۲۴، الریاض النضرۃ، ج۱، ص۹۴)
مرے محبوب کا کیا حال ہے؟
اُمّ المؤمنین حضرت سیدتناعائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاسے روایت ہے کہ آغاز اسلام میں جب اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب، دانائے غُیوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے صحابہ کی تعداد اڑتیس ہوگئی تو حضرت سیدناابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنےحضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے اعلان و اظہارِ اسلام کے لئے اجازت طلب کی،آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا :’’اے ابوبکر! ہم ابھی تعداد میں کم ہیں۔‘‘ مگرحضرت سیدناابوبکرصدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ اصرار فرماتے رہے یہاں تک کہ حضور  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اظہارِ اسلام کی اجازت مرحمت فرما دی۔ مسلمان مسجد