کردار آپ کی بے نظیر جرأت وبہادری ہے جس کا انہوں نے ہر موقع پر شاندار مظاہرہ فرمایا، یہی وجہ ہے کہ صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان آپ کی جرأت وبہادری کے تذکرے کرتے نظر آتے ہیں۔چنانچہ،
سب سے زیادہ بہادر
حضرت سیدنا علی المرتضیٰ شیر خدا کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمنے خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: ’’غزوہ بدرکے روز ہم نے دو عالم کے مالِک و مختار، مکّی مَدَنی سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت اور نگہداشت کے لیے ایک سائبان بنایا تا کہ کوئی کافر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پرحملہ کرکے تکلیف نہ پہنچا سکے۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قسم!ہم میں سے کوئی بھی آگے نہیں بڑھا،صرف حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ ننگی تلوار ہاتھ میں لیے آگے تشریف لائے اور نبیٔ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے پاس کھڑے ہوگئے اور پھرکسی کافر کو یہ جرأت نہ ہوسکی کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے قریب بھی پھٹکے۔اس لیے ہم میں سب سے زیادہ بہادر حضرت سیدنا ابوبکرصدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ ہی ہیں۔‘‘ (کنزالعمال،کتاب الفضائل ، فضائل الصحابۃ، فضل الصدیق، الحدیث: ۳۵۶۸۵،ج۶، الجزء:۱۲، ص۲۳۵)
مشرکین سے رسولِ خدا کا دفاع
اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی وحدانیت کا اعلان کرنے کے بعدجب مشرکین نے آپ کواور حُسنِ اَخلاق کے پیکر، محبوبِ رَبِّ اکبر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکو اذیتیں پہنچاناشروع کیں اس وقت حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے مشرکین کی طرف سے پہنچائی جانے والی تکالیف کو بڑے صبروتحمل کے ساتھ برداشت کیا اوررسولاللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکانہایت ہی جرأت وبہادری کے ساتھ مشرکین کے شرسے دفاع بھی کیا۔ چنانچہ،
بدبختو!ہلاک ہوجاؤ
حضرت سیدتنااسماء بنت ابو بکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے پوچھا گیاکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب، دانائے غُیوب صَلَّی