Brailvi Books

فیضانِ صدیق اکبر
104 - 691
تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے سامنے اپنی آواز بلند کررہی ہو۔‘‘ یہ حالت دیکھ کر رسول اللہ  صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکو تھپڑ مارنے سے روکا۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ اسی طرح غصے کی حالت میں واپس تشریف لے گئے۔ دو عالم کے مالِک و مختار، مکی مَدَنی سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فورا سیدتنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے فرمایا: ’’كَيْفَ رَأَيْتِنِي أَنْقَذْتُكِ مِنَ الرَّجُلِ‘‘ دیکھا! میں نے تمہیں ان سے کس طرح  بچایا۔‘‘ چند دنوں کے بعد سیدنا صدیق اکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ  کاشانۂ نبوی میں حاضر ہوئے تو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماور حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاکو باہم راضی اور خوش دیکھا تو بارگاہ رسالت میں یوں عرض گزار ہوئے: ’’أَدْخِلَانِي فِي سِلْمِكُمَا كَمَا أَدْخَلْتُمَانِي فِي حَرْبِكُمَا یعنی یارسول اللہ  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! جس طرح آپ نے مجھے اپنی شکر رنجی میں شریک کیا تھا اسی طرح مجھے اپنی صلح(خوشی) میں بھی شریک فرما لیجئے۔‘‘ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب، دانائے غُیوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے ارشاد فرمایا: ’’قَدْ فَعَلْنَا قَدْ فَعَلْنَا یعنی ہم نے آپ کو شریک کرلیا ، شریک کرلیا۔‘‘  (سنن ابی داود، کتاب الادب، باب ما جاء فی المزاح، الحدیث:۴۹۹۹،ج۴، ص۳۹۰)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! 	صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
صدیق اکبر کی جراءت وبَہَادری
حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے جیسے ہی اسلام قبول فرمایا اور اس کی تبلیغ کھلے عام شروع کی تومشرکین مکہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہاور سرکار دوعالم، نور مجسم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے جانی دشمن بن گئے ، آپ دونوں کو اذیت میں مبتلا کرنا ان کے نزدیک ایک ضروری امرتھا، لیکن آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے رسول اللہ  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی حفاظت اور ان کی حمایت ومدد کو اساس ایمان قراردے رکھا تھا اور یہ اساس ہی حقیقی ایمان ہے، یقینا سچا اور حقیقی مسلمان وہی ہے جو رسول اللہ  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی محبت کے مقابل اپنی جان ،مال اوراولاد وغیرہ کسی چیز کی قطعا پرواہ نہ کرےاور نہ ہی دنیا کی ظاہری عزت ووجاہت اس کی راہ میں حائل ہو، آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کا یہ بے مثال