میں لے جائے گا جن کے نیچے نہریں بہیں ان میں ہمیشہ رہیں اللہ ان سے راضی اور وہ اللہ سے راضی یہ اللہ کی جماعت ہے سنتا ہے اللہ ہی کی جماعت کامیاب ہے۔‘‘ (تفسیر روح المعانی،پ۲۸،المجادلۃ:۲۲،ج۲۸، ص۳۲۳)
غیرت صدیق اکبر اور آپ کے بیٹے
غزوۂ بدر میں آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکے بیٹے سیدنا عبد الرحمن بن ابوبکر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہاسلام قبول کرنے سے پہلے مشرکین کے ساتھ اسلام کے خلاف برسر پیکار تھے، جب وہ اسلام لے آئے توایک روزحضرت سیدنا صدیق اکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے یوں ہمکلام ہوئے:’’ابا جان!میدان بدر میں آپ میری تلوار کی زد میں آئے لیکن میں نے آپ سے قطع نظر کی اور آپ کو باپ سمجھ کر چھوڑ دیا۔ ‘‘یہ سن کرحضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنےغیرت ایمانی سے بھرپور جواب دیتے ہوئے ارشادفرمایا:’’ لٰکِنَّکَ لَواَھْدَفْتَ لِیْ لَمْ اَنْصَرِفْ عَنْکَ لیکن تو میرا ہدف بنتا تو میں تجھ سے اعراض نہ کرتا۔‘‘یعنی اے بیٹے!اس دن تم نے تومجھے اس لیے چھوڑ دیا کہ میں تمہارا باپ ہوں، لیکن اگرتم میری زدمیں آجاتے تومیں کبھی نہ دیکھتا کہ تم میرے بیٹے ہو بلکہ اس وقت تمہیں دشمن رسول سمجھ کر تمہاری گردن اڑادیتا۔ (نوادر الاصول ، الاصل الخامس والعشرون والمائۃ،الحدیث:۷۱۰، ج۱،ص۴۹۶۔۴۹۷، تاریخ مدینۃ دمشق، ج۳۰، ص۱۲۸)
غیرت صدیق اکبر اور آپ کی بیٹی
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کا ہر معاملہ پیارے آقا صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی محبت کی خاطر ہوتا تھا اور آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہاس معاملے میں اپنے والدین اور اولاد وغیرہ کا بھی لحاظ نہ فرماتے تھے۔چنانچہ ایک دفعہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنبیٔ کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکو اپنی بیٹی حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کی بلند آواز سنائی دی۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہیہ کہتے ہوئے سیدہ عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کو تھپڑ مارنے کے لیے ہاتھ اٹھا کر آگے بڑھے: ’’أَلَا أَرَاكِ تَرْفَعِينَ صَوْتَكِ عَلَى رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ یعنی یہ میں کیا دیکھ رہاہوں کہ تم رسول اللہ صَلَّی اللہُ