Brailvi Books

فیضانِ صدیق اکبر
102 - 691
رُحَمَاءُ بَیْنَھُم کی اک تفسیر جمیل
ہیں اَشِدَّاءُ عَلَی الْکُفَّار یارِ مصطفےٰ
مظہر شان رسالت پیکر صدق ووفا
واہ کیا ہیں صاحب کردار یارِ مصطفےٰ
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! 	صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
غیرت صدیق اکبر اور آپ کے والد
حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ  کے والد ابوقحافہ نے(قبول اسلام سے پہلے) ایک بار سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی شان میں نازیبا کلمات کہہ دیے توحضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنےانہیں اتنے زور سے دھکا دیاکہ وہ دورجا گرے،بعدمیں آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ  نے سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو سارا ماجراسنایا توآپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے استفسار فرمایا: ’’اے ابوبکر!کیاواقعی تم نے ایسا کیا؟‘‘عرض کیا:’’جی ہاں!‘‘فرمایا:’’آئندہ ایسا نہ کرنا۔‘‘عرض کیا:’’یارسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! اگر اس وقت میرے پاس تلوار ہوتی تومیں ان کا سر قلم کردیتا۔‘‘اس وقت سورۃ المجادلہ کی آیت نمبر۲۲آپ کے حق میں نازل ہوئی:( لَا تَجِدُ قَوْمًا یُّؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ یُوَآدُّوْنَ مَنْ حَآدَّ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ لَوْ كَانُوْۤا اٰبَآءَهُمْ اَوْ اَبْنَآءَهُمْ اَوْ اِخْوَانَهُمْ اَوْ عَشِیْرَتَهُمْؕ-اُولٰٓىٕكَ كَتَبَ فِیْ قُلُوْبِهِمُ الْاِیْمَانَ وَ اَیَّدَهُمْ بِرُوْحٍ مِّنْهُؕ-وَ یُدْخِلُهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاؕ-رَضِیَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوْا عَنْهُؕ-اُولٰٓىٕكَ حِزْبُ اللّٰهِؕ-اَلَاۤ اِنَّ حِزْبَ اللّٰهِ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ۠(۲۲))  (پ۲۸، المجادلۃ:۲۲) ترجمۂ کنزالایمان: ’’تم نہ پاؤ گے ان لوگوں کو جو یقین رکھتے ہیں اللہ  اور پچھلے دن پر کہ دوستی کریں ان سے جنہوں نے اللہ  اور اس کے رسول سے مخالفت کی اگرچہ وہ ان کے باپ یا بیٹے یا بھائی یا کُنبے والے ہوں یہ ہیں جن کے دلوں میں اللہ  نے ایمان نقش فرما دیا اور اپنی طرف کی روح سے ان کی مدد کی اور انہیں باغوں