اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے رسول ہیں، اور اسی کی طرف سے تمہارے پاس وہ حق لے کر آئے ہیں جیساکہ تمہاری کتاب تورات میں لکھاہواہے۔‘‘آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکے یہ الفاظ سن کر فنحاص نے تمسخر آمیز مسکراہٹ کے ساتھ جواب دیا:’’اے ابوبکر! کان کھول کے سن! ہمیں تمہارے خدا سے کسی چیز کی ضرورت نہیں، ہاں! تمہارے خدا کو ضرورہماری ضرورت ہے، ہم اس کی طرف نہیں جھکتے بلکہ وہ ہماری طرف جھکنے پر مجبور ہے ، ہمیں اس کی مدد کی کوئی ضرورت نہیں ہاں اسے ہماری مدد کی ضرور حاجت ہے اگروہ ہماری مدد سے بے نیاز ہوتا توکبھی ہمارے مال بطور قرض ہم سے نہ مانگتا اورتمہارا خدا ہمیں سود لینے سے منع کرتاہے لیکن خود ہمیں سود دیتاہے اگر وہ ہم سے بے نیاز ہوتا تو ہمیں سود کیوں دیتا۔ ‘‘فنحاص کی یہ گفتگو نہایت ہی گھٹیااور کفروضلالت سے غلیظ و انتہائی احمقانہ بکواسات پرمشتمل تھی، اس کا مقصد قرآن پاک کی آیات کا مذاق اڑانا تھا ، جب حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے اس کی یہ بکواس سنی توآپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی غیرت ایمانی جوش مارنے لگی اور اتنا شدید غصہ آیا کہ برداشت سے باہر ہوگیا، آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے قطعا اس بات کی پرواہ نہ کی کہ میرے سامنے یہودیوں کا کوئی عالم کھڑاہے یا جاہل، گھماکر اس زور سے اس کے منہ پر تھپڑ مارا کہ اسے دن میں بھی تارے نظر آگئے، ارشاد فرمایا:
’’لَوْلَا الَّذِيْ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ مِنَ الْعَهْدِ لَضَرَبْتُ عُنُقَكَ یعنی اے خدا کے دشمن! اگرمسلمانوں اور یہودیوں کے درمیان معاہدہ نہ ہوتاتومیں تیری گردن اڑادیتا۔‘‘(تفسیر کبیر، پ۳، آل عمران:۱۸۲،ج۳، ص۴۴۶، مشکل الآثار للطحاوی، باب بیان مشکل ما روی عن رسول اللہ۔۔۔الخ، الحدیث:۱۹۴۸،ج۱، الجزء:۲، ص۲۳۰)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! واقعی کتنی حیران کن بات ہے کہ ایک طرف تو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنہایت ہی نرم دل اور متحمل مزاج ہیں اور دوسری طرف یہ حالت ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ،رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اور کلام الہٰی کے خلاف کوئی بات سننا گوارا نہیں اگرچہ بات کرنے والا کتنا ہی بڑا آدمی ہو۔حقیقت یہ ہے کہ یہ ان کی غیرت ایمانی اور اس بات کی دلیل ہے کہ آیات قرآنیہ کے خلاف تمسخر اور رسول خدا پراستہزا سننا ان کے لیے ممکن نہ تھا۔