Brailvi Books

فیضانِ مُرشد
40 - 46
خوش نصیب عطاری
    باب الاسلام (سندھ) کے ایک اسلامی بھائی کا حلفیہ بیان ہے کہ میرے والد صاحب مدنی ماحول سے ناواقفیت کی بِناء پر میرے اجتماع میں شرکت کرنے پر کبھی کبھی اعتراض بھی کیا کرتے مگر میں نے جواب دینے کی بجائے گھر والوں پر انفرادی کوشش جاری رکھی۔موقع ملنے پر امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے سُنّتوں بھرے بیانات کی کیسٹیں گھر میں سنانے کا سلسلہ رکھا۔اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ عَزَّوَجَلَّ اس کی برکت سے والد صاحب سمیت تمام گھر والے بھی امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے مرید بن گئے اور ایک دن والد صاحب نے امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے بیان کی کیسیٹ ''قبر کی پکار'' سُنی تو چہرے پر داڑھی شریف بھی سجا لی۔نماز وہ پہلے ہی شروع فرما چکے تھے ۔چند دن بیمار رہے اور انہیں راجپوتانہ ہسپتال(حیدرآباد) میں داخل کرا دیا گیا ۔20جولائی 2004؁ء بروز منگل دوپہر کم و بیش 1:30بجے میری اور دیگر رشتہ داروں کی موجودگی میں والد صاحب بلند آواز سے کلمۂ طیبہ
لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہ
(صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمْ)کا ورد کرنے لگے اور اسی عالم میں اِن کی روح قفسِ عُنصُری سے پرواز کر گئی۔
Flag Counter