شیخِ طریقت امیرِاہلِسنّت حضرت علامہ مولانا محمد الیاس عطار قادری دامت برکاتہم العالیہ اپنی مشہور زمانہ تالیف ''فیضانِ سنّت ''جلد اول کے صفحہ 931 پر لکھتے ہیں:
ایک اسلامی بھائی کی تحریر کا خلاصہ ہے: اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَل َّمجھے مَدَنی اِنعامات سے پیار ہے اور روزانہ فکرِ مدینہ کرنے کا میرا معمول ہے۔ ایک بار میں تبلیغِ قراٰن وسنّت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک ، دعوتِ اسلامی کے سنّتوں کی تربیّت کے مَدَنی قافِلے میں عاشقانِ رسول کے ساتھ صوبہ بلوچستان ( پاکستان ) کے سفر پر تھا۔ اِسی دَوران مجھ گنہگار پر بابِ کرم کُھل گیا ۔ ہوا یوں کہ رات کو جب سویا تو قسمت انگڑائی لیکر جاگ اُٹھی ، جنابِ رسالت مَآب صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم خواب میں تشریف لے آئے،ابھی جلووں میں گُم تھا کہ لب ہائے مبارَکہ کو جُنبِش ہوئی اور