| فیضانِ مُرشد |
مدینہ: ایسے شخص سے بیعت کا حکم ہے جو کم از کم یہ چاروں شرطیں رکھتا ہو ۔ اوّل : سُنّی صحیح العقید ہو دُوُم: علمِ دین رکھتا ہو سِوُم : فاسِق نہ ہو(یعنی کبیرہ گناہ کا مرتکب نہ ہو) چِہارم:اس کا سلسلہ رسول اللہ عَزَّوَجَلَّ وصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم سے متصل ہو۔
(فتاویٰ رضویہ جدید ،جلد ۲۱،صفحہ ۶۰۳)
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ عَزَّوَجَلَّ امیرِاہلِسُنّت دامت برکاتہم العالیہ اِن چاروں شرائطِ بیعت کے جامع ہیں۔ ؎ ۱
بنایا مجھ کو اپنا ہے تیرا احسان ہے مرشد ملا مجھ کو یہ رُتبہ ہے تیرا احسان ہے مرشد تیری نسبت نے مجھ کو کر دیا ہے کیا سے کیا مرشد رکھا کیا مجھ میں ورنہ ہے تیرا احسان ہے مرشد بھٹکتاپھررہاتھادشت عصیاں میں یويہی بیکس دِکھایا تُو نے رستہ ہے تیرا احسان ہے مرشد
اللہ تعالٰی کا تَقَرُّبْ(تَ۔قَر۔رُب)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! جو فرائض او ر واجبات کی ادائیگی نہیں کرتا وہ اللہ تعالیٰ کا قرب نہیں پا سکتا۔چنانچہ مصطفی جانِ رحمت ،محبوبِ ربّ العزّت ،شہنشاہِ نبوت، تاجدارِ رسالت عَزَّوَجَلَّ وصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کا فرمانِ تقرب نشان ہے:اللہ
مــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینہ ۱؎: مزید معلومات کے لئے نگرانِ شورٰی کا کیسٹ بیان ''جامع شرائط پیر''سُننا بے حد مُفید ہو گا۔اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ