دیر نہ کرے،سب کاموں پر اِسے تقدیم (اوّلیت) دے۔اِنکی غَیْبت(غیر موجودگی ) میں بھی اِنکے بیٹھنے کی جگہ پر نہ بیٹھے۔ان کے وصال کے بعد بھی اِن کی زوجہ سے نکاح نہ کرے،روزانہ اگر زندہ ہیں اِن کی سلامتی و عافیت کی دُعا باکثرت کرتا رہے اور اگر انتقال ہوگیا ہو تو روزانہ اِنکے نام پر فاتحہ و دُرود کا ثواب پہنچائے ۔اِنکے دوست کا دوست،اِنکے دشمن کا دشمن رہے۔غرض اللہ و رسول عَزَّوَجَلَّ وصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کے بعد اِنکے عِلاقہ (تعلق) کو تمام جہان کے عِلاقہ پر دِل سے ترجیح دے اور اِسی پر کاربند رہے وغیرہ وغیرہ ۔جب ایسا ہوگا تو ہر وقت اللہ عَزَّوَجَلَّ وسَیِّدِ عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلمو مشائخِ کِرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی مدد زندگی میں ،نزع میں ،قبر میں، حشر میں،میزان پر،پل صراط پر حوضِ کوثر پر ہر جگہ اس کے ساتھ رہے گی۔اِس کے پیر اگر خود کچھ نہیں تو اِن کے پیر تو کچھ ہیں یاپیر کے پیر یہاں تک کہ صاحبِ سلسلہ حضورِ پُر نور غوث الاعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ پھر یہ سلسلہ مولیٰ علی کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم اور اُن سے سَیِّدُ المرسلین صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم اور اُن سے رَبُّ العالمین جَلَّ جَلَالُہٗتک مسلسل چلا گیا۔ہاں یہ ضرور ہے کہ مرشدچاروں شرائطِ بیعت کا جامع ہو۔پھر اِن کا حسنِ اعتقاد سب کچھ پَھل لا سکتا ہے۔ان شآء اللہ عَزَّوَجَلَّ ۔