مرشِدکے حقوق مرید پر شمار سے اَفزوں ہیں،خُلاصہ یہ ہے کہ اِس کے ہاتھ میں مُردہ بدست زندہ ہو کر رہے،اُس کی رِضا کو اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رِضا ،اُس کی ناخوشی کو اللہ عَزَّوَجَلَّ کی نا خوشی جانے،اُسے اپنے حق میں تمام اولیائے زمانہ سے بہتر سمجھے ،اگر کوئی نِعمت دوسرے سے ملے تو بھی اُسے مُرشد ہی کی عطا اور اُنہیں کی نظر کی توجہ کا صَدْقہ جانے ،مال ،اولاد ،جان سب اُن پر تَصَدُّق کرنے کو تیار رہے،اُنکی جو بات اپنی نظر میں خلافِ شرعی بلکہ معاذاللہ عَزَّوَجَلَّ کبیرہ معلوم ہو ،اُس پر بھی نہ اعتراض کرے،نہ دل میں بدگمانی کو جگہ دے بلکہ یقین جانے کہ میری سمجھ کی غلطی ہے،دوسرے کو اگر آسمان پر اُڑتا دیکھے جب بھی مُرشِد کے سوا دوسرے کے ہاتھ میں ہاتھ دینے کو آگ جانے ،ایک باپ سے دوسرے کو باپ نہ بنائے،ان کے حضور بات نہ کرے،ہنسنا تو بڑی چیز ہے ،اِن کے سامنے آنکھ ،کان،دِل ،ہمہ تَن اِنہیں کی طرف مصروف رکھے،جو وہ پوچھے نہایت نرم آواز سے باکمال ادب بتا کر جلد خاموش ہو جائے۔اِن کے کپڑوں ،اِنکے بیٹھنے کی جگہ ،اِنکی اولاد ،اِنکے مکان،اِنکے محلہ ،اِنکے شہر کی تعظیم کرے۔جو وہ حکم دیں ''کیوں'' نہ کہے