(1)فقیہِ اعظم ہند،شارِح بُخاری ،نائِبِ مفتی اعظم ھِند،مفتی محمد شریف الحق امجدی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی جنہوں نے امیر اہلسنّت دامت برکاتہم العالیہ کو خلافت اور سندیں عطا کی ہیں،فرماتے ہیں:'' جناب مولانا محمدالیا س صا حب دامت برکاتہم العالیہ اس زمانے میں فی سبیل اﷲعَزَّوَجَلَّ بغیرمشاہرے اور نذرانے کی طرف طَمَعْ کے ، خا لص ا ﷲعَزَّوَجَلَّ کے لیے اور اس کے حبیب صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم ْکی رِضا جو ئی کے لیے اتنا عظیم الشّان، عالم گیر پیمانے پر کام کر رہے ہیں۔جس کے نتیجہ میں لاکھوں بد عقیدہ، سُنّی، صحیح العقیدہ ہو گئے۔اور لا کھو ں شریعت سے بیزار افراد شریعت کے پابند ہو گئے۔بڑے بڑے لکھ پتی کروڑ پتی گریجویٹ نے داڑھیا ں رکھیں ، عِمامہ باندھنے لگے،پانچوں وقت باجماعت نمازیں پڑھنے لگے اور دینی باتوں سے دلچسپی لینے لگے،دوسرے لوگوں میں دینی جذبہ پیدا کرنے لگے۔کیا یہ کارنامہ اس لائق نہیں کہ اﷲعَزَّوَجَلّ کی بارگاہ میں قبول ہو؟حضورِ اقد س صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا:میری امت کے بگڑنے کے وقت جو میری سُنّت کا پابند ہو گااس کو سو شہیدوں کا ثواب ملے گا۔ (مشکو ۃ ،ص۳۰)