(1)مہرِ مُعجَّل: وہ مہر ہے کہ خلوت سے پہلے دینا قرار پایا ہو۔مہرِ معجل وصول کرنے کیلئے عورت اپنے کو شوہر سے روک سکتی ہے،اگر چہ اس سے پیشتر عورت کی رضا مندی سے خلوت ووطی ہوچکی ہو یعنی یہ حق عورت کو ہمیشہ حاصل ہے جب تک وصول نہ کرلے۔
(2)مہر مؤجل: وہ مہر ہے کہ جس کی ادائیگی کیلئے کوئی میعاد مقرر ہو۔مہر مؤجل میں جب تک وہ میعاد نہ گزرے عورت کو مطالبے کا اختیار نہیں اور میعاد پوری ہونے کے بعد ہر وقت مطالبہ کرسکتی ہے،اور اپنے کو شوہر سے روک سکتی ہے۔
( 3)مطلق: وہ مہر ہے کہ نہ خلوت سے پہلے دینا قرار پایا ہو اور نہ کوئی میعاد مقرر ہو۔مہر مطلق میں تا وقتیکہ موت یا طلاق ہو عورت کو مطالبے کا حق نہیں۔
(بہار شریعت ،مہرکا بیان ،حصہ۷ ،ص۶۶)
خلوتِ صحیحہ یہ ہے کہ نکاح کے بعد عورت اور مرد تنہائی میں جمع ہوں اور کوئی چیز جماع سے مانع نہ ہو،تو یہ خلوت بھی جماع ہی کے حکم میں ہے۔موانعِ جماع تین ہیں: