| فیضانِ چہل احادیث |
مطلب یہ ہے کہ میں کونسا صدقہ دے کر ان کی روح کو اس کا ثواب بخشوں۔ اس سے معلوم ہواکہ بعدِ وفات میت کو نیک اعمال خصوصاً مالی صدقہ کا ثواب بخشنا سنّت ہے۔ قرآن کریم سے تو یہاں تک ثابت ہے کہ نیکو ں کی برکت سے بروں کی آفتیں بھی ٹل جاتی ہیں،رب تعالیٰ فرماتا ہے
وَکاَنَ اَ بُوْہُمَا صَا لِحاً
(ترجمۂ کنزالایمان :اور ان کا باپ نیک آدمی تھا)۔ (پ۱۶،سورۃ الکہف:۸۲)
نبیِ کریم صلی اللہ تعالی علیہ واٰلہ وسلم نے جواباً پانی کی خیرات کا حکم دیا ۔کیونکہ پانی سے دینی دنیوی منافع حاصل ہوتے ہیں۔بعض لوگ سبیلیں لگاتے ہیں عام مسلمان ختم فاتحہ وغیرہ میں دوسری چیزوں کے ساتھ پانی بھی رکھ دیتے ہیں ان سب کا ماخذ یہ حدیث ہے۔اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہواکہ ایصالِ ثواب کے الفاظ زبان سے ادا کر نا سنّتِ صحابہ ہے کہ خدایا اس کا ثواب فلاں کو پہنچے۔
(ماخوذ از مراٰۃ المناجیح، ج ۳،ص۱۰۴ ،۱۰۵)
شیخِ طریقت امیر اہلسنّت بانی دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا محمد الیاس عطّار قادری دامت برکاتہم العالیہ کے رسالے ''مغموم مُردہ ''سے ایصال ثواب کے مدنی پھول: ( 1)فرض،واجب،سنت،نفل،نماز،روزہ،زکوۃ،حج وغیرہ ہر عبادت (نیک کام)کا ایصالِ ثواب کرسکتے ہے۔ (2)میت کا تیجا،دسواں،چالیسواں،برسی کرنا اچھا ہے کہ یہ ایصالِ ثواب کے ذرائع ہیں۔شریعت میں تیجے وغیرہ کے عدَمِ جواز کی دلیل نہ ہونا خود دلیلِ جواز ہے اور میت کیلئے زندوں کا دعا کرنا خود قرآن پاک سے ثابت ہے جو کہ ایصالِ ثواب کی اصل