Brailvi Books

فیضانِ چہل احادیث
93 - 118
ہے۔
چنانچہ ارشاد ہوتا ہے:
وَالَّذِیْنَ جَآءُ وْا مِنْم بَعْدِھِمْ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا اغْفِرْلَنَاوَلِاِخْوَانِنَا الَّذِیْنَ سَبَقُوْنَا بِالْاِیْمَانِ
ترجمۂ کنزالایمان:اور وہ جوان کے بعد آئے عرض کرتے ہیں اے ہمارے رب! عزوجل ہمیں بخش دے اور ہمارے بھائیوں کو جو ہم سے پہلے ایمان لائے۔             (پ۲۸،الحشر:۱۰)
 (3)تیجے وغیرہ میں کھانے کا انتظام صرف اسی صورت میں میت کے چھوڑے ہوئے مال سے کر سکتے ہیں جبکہ سارے وُرثاء بالغ ہوں اور سب کے سب اجازت بھی دیں۔اگر ایک بھی وارث نابالغ ہے تو نہیں کرسکتے(نابالغ اجازت دے تب بھی نہیں کرسکتے)۔ہاں بالغ اپنے حصے سے کرسکتا ہے۔

(4)میت کے گھر والے اگر تیجے کا کھانا پکائیں تو صرف فُقراء کو کھلائیں۔

(5)نابالغ بچے کو بھی ایصالِ ثواب کرسکتے ہیں جو زندہ ہیں ان کو بھی،بلکہ جو مسلمان ابھی پیدا نہیں ہوئے ان کو بھی پیشگی(ایڈوانس میں)ایصالِ ثواب کیا جاسکتا ہے۔

(6)مسلمان جنّات کو بھی ایصالِ ثواب کیا جاسکتا ہے۔

( 7)گیارہویں شریف،رَجَب شریف(یعنی ۲۲ رجب کو سیدنا امام جعفر صادق رضی اللہ تعالی عنہ کے کونڈے کرنا)وغیرہ جائز ہیں۔کھیر کونڈے ہی میں کھلانا ضروری نہیں دوسرے برتن میں بھی کھلاسکتے ہیں۔اس کو گھر سے باہر بھی لے جاسکتے ہیں۔
Flag Counter