Brailvi Books

فیضانِ چہل احادیث
82 - 118
بامحاورہ ترجمہ: حضرت معاذبن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، کہ اللہ کے رسول عزوجل وصلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایاکہ جن دو مسلمانوں کے تین بچے مرجائیں تو اللہ تعالیٰ ان دونوں کو اپنے فضل و رحمت سے جنت میں داخل فرمائے گا،صحابہ نے عرض کیا۔اے اللہ کے رسول عزوجل وصلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم اگر دو بچے انتقال کرجائیں تو؟ سرکار صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا دو کا بھی یہی اجر ہے۔پھر صحابہ نے عرض کیا اے اللہ کے رسول عزوجل وصلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم اگر ایک فوت ہو جائے تو؟ سرکارصلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ایک کا بھی یہی اجر ہے۔پھر فرمایا قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے کہ خام حمل جو ساقط ہوجاتا ہے اپنی ماں کوناروکے ذریعے جنت کی طرف کھینچے گا جبکہ ماں(اس تکلیف پر)صبر اور ثواب کی طالب ہوئی ہو۔
 (مشکوٰۃ المصابیح،کتاب ا لجنائز،باب البکاء علی المیت،الحدیث۱۷۵۴،ج۱،ص۳۳۲)
وضاحت:
    دو مسلمانوں سے مراد ماں باپ ہیں جن کے چھوٹے بچے فوت ہوں اور وہ صبر کریں۔اس حدیث مبارکہ میں بیان کردہ ترتیب سے کمال ونقصان کی طرف اشارہ ہے یعنی اوّل نمبر اور کامل مستحق رحمت تووہ ہیں جو تین بچوں پر صبر کریں پھر وہ بھی جو دویا ایک پر صبر کریں کہ یہ دونوں پہلے کے ساتھ ملحق ہیں۔
     ناروجو بچے کے ناف میں لمبا سا ہوتا ہے جسے وقتِ پیدائش دائی کا ٹتی ہے ۔ اگرچہ وہ کاٹ کر پھینک دیا جاتا ہے ،مگر قیامت میں اس بچے کے ساتھ ہو گا کیونکہ رب تعالیٰ اجزائے بدن کو وہاں جمع فرمائے گا ،حتی کہ قلفہ یعنی ختنہ کی کھال بھی وہاں موجود
Flag Counter