| فیضانِ چہل احادیث |
رسول عزوجل وصلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایاکہ جب کسی مومن بندے کا بیٹا مرجاتا ہے تو اللہ تعالی ملائکہ سے فرماتا ہے کہ تم نے میرے بندے کے بیٹے کی روح قبض کرلی تو وہ عرض کرتے ہیں ہاں۔تو فرماتا ہے : تم نے اس کے دل کا پھل توڑ لیا تو عرض کرتے ہیں ہاں ۔پھر اللہ تعالی فرماتا ہے(اس مصیبت پر)میرے بندے نے کیا کہا؟تو فرشتے عرض کرتے ہیں کہ تیر ی تعریف کی اور
اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّآ اِلَیْہِ رٰجِعُوْنَ
پڑھا تو اللہ تعالی فرماتا ہے میرے اس بندے کیلئے جنت میں ایک گھر بناؤ اور اس کا نام بیت الحمد رکھو۔
(جامع الترمذی، کتاب الجنائز، باب فضل المصیبۃ اذا احتسب،الحدیث۱۰۲۳،ج۲،ص۱۳ ۳ )
وضاحت:
یہ سوال وجواب ان فرشتوں سے ہوتے ہیں جو میت کی روح بارگاہِ الٰہی میں لے جاتے ہیں ۔اس سوال سے انہیں گواہ بنانا مقصود ہے ورنہ رب تعالیٰ توعلیم وخبیر ہے۔ خیال رہے کہ جنت میں بعض محل رب کی طرف سے پہلے ہی بن چکے ہیں اور بعض انسان کے اعمال پر بنتے ہیں یہاں اس دوسرے محل کا ذکر ہے جیسے یہاں مکانوں کے نام کاموں سے ہوتے ہیں ویسے ہی وہاں ان محلات کے نام اعمال سے ہیں۔
(ماخوذ از مراٰۃ المناجیح، ج ۲،ص۵۰۷)
مصیبت پر صبر کرنے سے دو ثواب ملتے ہیں ایک مصیبت کادوسرا صبر کا۔اور جزع و فزع سے دونوں ثواب جاتے رہتے ہیں۔
(بہار شریعت،حصہ۴،ص۱۶۸)
شہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہ، صاحبِ معطر پسینہ، باعثِ نُزولِ سکینہ، فیض گنجینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا'' جسے کوئی مصیبت پہنچی اور وہ مصیبت کو یا د کرکے