| فیضانِ چہل احادیث |
پیارے اسلامی بھائیو! جب بھی کسی مریض کی عیادت کے لئے جانا ہو تو مریض سے اپنے لئے دعا کروانی چاہیے کہ مریض کی دعا رد نہیں ہوتی چنانچہ
حضرتِ سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگار، شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختار، حبیبِ پروردگار
عزوجل و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایاکہ :''مریض جب تک تندرست نہ ہوجائے اس کی کوئی دعا رد نہیں ہوتی ۔''(الترغیب والتر ھیب ،کتاب الجنائز ، باب الترغیب فی عیادۃ المرضی ...الخ ، الحدیث۱۹ ، ج ۴ ، ص ۱۶۶)
اورحضرت سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ آقائے مظلوم، سرورِ معصوم، حسنِ اخلاق کے پیکر،نبیوں کے تاجور، مَحبوبِ رَبِّ اکبر عزوجل و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایاکہ:'' جب تم کسی مریض کے پاس جاؤ تو اس سے اپنے لئے دعا کی درخواست کرو کیونکہ اس کی دعا فرشتوں کی دعا کی طرح ہوتی ہے۔''
(سنن ابن ماجہ، کتاب الجنائز ، باب ماجاء فی عیادۃ المریض ،الحدیث ۱۴۴۱، ج۲، ص ۱۹۱)
دعا:
یاربِّ مصطَفٰے عَزَّوَجَلَّ وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ! ہمیں سنّت کے مطابق مریضوں کی عیادت کرنے کی توفیق عطا فرما ۔ یا اللہ! عَزَّوَجَلّ ہمیں مَدَنی انعامات کا عامل بنا۔ یا اللہ!عَزَّوَجَلّ ہماری بے حِساب مغفِرت فرما۔یا اللہ ! عَزَّوَجَلَّ ہمیں دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول میں اِستِقامت عطا فرما۔یا اللہ عَزَّوَجَلَّ ہمیں سچّا عاشِقِ رسول بنا۔یااللہ ! عَزَّوَجَلَّ اُمَّتِ محبوب (صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ) کی بخشش فرما ۔ اٰ مِین بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِین صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم