(مرقاۃ المفاتیح ، ج۴،ص۲۹)
جب کوئی مسلمان بیمار ہو جائے تو ہمیں اُس کی عیادت ضرور کرنی چاہیے کہ اس نیکی میں مشقت کم ہے مگر یہ لاتعداد فرشتوں کی دعاملنے کا ذریعہ ہے اور جنت ملنے کا سبب بھی ۔
(ماخوذازمراٰۃالمناجیح،ج۲،ص۴۱۵)
عیادت کے مزید فضائل ملاحظہ ہوں :
(۱)حضرتِ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نُبوت، مَخْزنِ جودوسخاوت، پیکرِ عظمت و شرافت، مَحبوبِ رَبِّ العزت،محسنِ انسانیت صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا کہ:'' جو شخص کسی مریض کی عیادت کرتاہے تو ایک منادی آسمان سے ندا کرتاہے ،'' تُوخوش ہوکہ تیرا یہ چلنا مبارک ہے اور تو نے جنت میں اپنا ٹھکانا بنالیا ہے۔''
(سنن ابن ماجہ ،کتاب الجنائز ،باب ماجاء فی ثواب من عا د مریضاً،الحدیث ۱۴۴۳ ، ج۲ ،ص ۱۹۲)
(۲)حضرتِ سیدنا اَنَسْ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایاکہ:'' جس نے اچھے طریقے سے وضو کیا اور ثواب کی امید پر اپنے کسی مسلمان بھائی کی عیادت کی اسے جہنم سے ستر سال کے فاصلے تک دور کردیا جائیگا۔''
(سنن ابی داؤد ،،کتاب الجنائز ، باب فی فضل العیادۃ ...الخ ، الحدیث ۳۰۹۷ ، ج۳ ، ص ۲۴۸)