مثنوی شریف میں ہے: ایک عورت کے بیس بیٹے تھے قضائے الٰہی سے ہر سال ایک ایک بیٹا جوانی کی عمر میں فوت ہونا شروع ہوا،اور یوں بیسوں کا انتقال ہوگیا،مگر وہ عورت صابرہ رہی۔ایک رات خواب میں اس عورت نے خود کو نہایت حسین باغ میں دیکھا جس میں بیشمار محلات تھے،ہر ایک محل پر اس کے مالک کا نام درج تھا۔ایک نہایت نفیس محل پر اپنا نام دیکھ کر اندر داخل ہوئی تو اپنے بیسوں بیٹوں کو وہاں عیش و آرام میں پایا۔ماں کو دیکھ کر ایک بیٹا بولا،ماں !ہم اپنے رب کے پاس نہایت آرام سے ہیں۔پکارنے والے نے پکارا کہ اے مومنہ!تیر ا مقام یہ ہے مگر تیرے اعمال تجھے یہاں تک نہیں پہنچاسکتے تھے اس لئے تجھے بیس غم دیئے گئے یہ بیس غم اس منزل کی بیس سیڑھیاں تھیں جن کو تو نے رب تعالیٰ کے کرم سے طے کرلیا اب تیرے لئے خوشی ہی خوشی ہے۔