(1) بندہ بلاومصیبت پر صبر کرنے سے اس مرتبہ تک پہنچ جاتا ہے جس تک طاعت وعبادت سے نہیں پہنچ سکتا ۔
(2)مصیبت پر صبر اللہ تعالیٰ کی توفیق سے ملتا ہے نہ کہ اپنی ہمت وجرأت سے اور صبر اللہ عزوجل کی بہت بڑی نعمت ہے۔
(3) درجات اعمال سے ملتے ہیں اور بخشش رب عزوجل کے کرم سے ۔ علمائے کرام فرماتے ہیں کہ جنت میں داخلہ اللہ عزوجل کے فضل سے ہوگا مگر وہاں کے درجات مومن کے اعمال سے (ملیں گے)،مگر کبھی دوسرے کے عمل بھی کام آجاتے ہیں مثلاً صابر مومن کی چھوٹی اولاد اپنے ماں باپ کے ساتھ ہی رہے گی اگرچہ کچھ عمل نہ کرسکی ،فرمانِ رب لم یزل ہے :
اَلْحَقْنَابِھِمْ ذُرِّیَّتَھُمْ
ترجمہ کنزالایمان :ہم نے ان کی اولاد ان سے ملادی ۔ (پ:۲۷،الطور:۲۱)
(4) انسانوں کے درجات وغیرہ پہلے سے ہی مقرر ہوچکے ہیں جہاں(انسان)