| فیضانِ چہل احادیث |
عَن الْمِسْوَربْن مَخْرمَۃَ أَنَّ سُبَیْعَۃَ الْاَسْلَمِیَّۃَ نُفِسَتْ بَعْدَوَفَاۃِزَوْجِھَابِلَیَال ٍ فَجَاءَ تِ النَّبِیَّ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم فَاسْتَاذَنَتْہٗ أَنْ تَنْکِحَ فَأَذِنَ لَھَا فَنَکَحَتْ
حضرت مسور بن مخرمہ سے(روایت ہے) کہ سبیعہ اسلمیہ(کو) نفاس آیا(یعنی بچہ جنا) اپنے شوہر(کے) انتقال کے کچھ عرصہ بعد تو آئیں وہ نبی صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم (کے پاس ) اور اجازت چاہی انہوں نے ،سرکار سے کہ نکاح کریں وہ پس اجازت عطا کی سرکار صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے ان کوتو نکاح کیا انہوں نے
بامحاورہ ترجمہ: حضرت مسور بن مخرمہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے، کہ سبیعہ اسلمیہ نے شوہر کے انتقال کے کچھ عرصے بعد بچہ جناتو اللہ کے رسول صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور نکاح کی اجازت طلب کی حضور صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے ان کو اجازت دے دی تو انہوں نے نکاح کرلیا۔
(صحیح البخاری، کتاب الطلاق، باب۳۹، الحدیث۵۳۲۰،ج۳،ص۵۰۳)
وضاحت:
یعنی وہ خاتون حاملہ تھیں اپنے خاوند کی وفات کے چند دن بعد بچہ پیدا ہو گیا تھا نفاس آنے سے یہی مراد ہے۔اس پر امت کا اجماع ہے کہ حاملہ کی عدت حمل جَن دینا ہے خواہ مطلقہ ہو یا وفات والی ، اگرچہ طلاق یاوفات کے ایک منٹ بعد ہی بچہ پیدا
ہو جائے۔ اس مسئلہ کا ماخذ یہ حدیث ہے۔