| فیضانِ بسم اللہ |
فرمانِ مصطَفےٰ :(صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم)مجھ پر کثرت سے دُرُود پاک پڑھو بے شک تمہارا مجھ پر دُرُود پاک پڑھنا تمہارے گناہوں کیلئے مغفرت ہے۔
اچّھی نیّت کی برَکتیں
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!دیکھا آپ نے ؟ اچھی نیَّت کا کس قَدَر بُلند رُتبہ ہے کہ عمل کرنے کا موقع نہ ملنے کے باوُجُود اجتماع میں شرکت کی نیَّت کرنے والے خوش نصیب کی مغفِرت کر دی گئی ۔ حضرت سیِّدُنا حسن بصری رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں، انسان کو چند روز کے عمل سے نہیں اچھی نِیّت سے جنّت حاصِل ہو گی۔
(کیمیائے سعادت ج۲ص۸۶۱)
یاد رکھئے! نیَّت دل کے ارادے کو کہتے ہیں ۔ دل میں ارادہ نہ ہونے کی صورت میں خالی ہاں کر دینے سے نیَّت کا ثواب نہیں ملتا ۔ مَثَلاً کسی سے کہا گیا کہ کل آنا۔ اُس نے ہاں کہہ دیا اور دِل میں یہ ارادہ ہے کہ نہیں جاؤں گا تو یہ جھوٹا وعدہ ہوا اور جھوٹا وعدہ کرنا حرام اور جھنَّم میں لے جانا والا کام ہے۔جب نبی اکرم،نورِ مُجَسَّم ، رَحمتِ عالَم ،شاہِ بنی آدم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم غزوہ تبوک کے لیے تشریف لے گئے تو فرمایا ،مدینہ طیّبہ میں کچھ لوگ ہیں کہ ہم جو بھی وادی طے کرتے ہیں یا ایسی جگہ کو پامال کرتے ہیں جس سے کفار کو غصّہ آئے نیز ہم کوئی مال خرچ کرتے ہیں یا ہم بھوکے ہوتے ہیں تو وہ ان تمام باتوں میں ہمارے ساتھ شریک ہوتے ہیں حالانکہ وہ مدینہ منوّرہ میں ہیں صَحابہ کرام علیھم الرضوان نے عرض کیا، یا رسولَ اللہ ! عَزَّوَجَلَّ و صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم وہ کیسے ؟ وہ تو ہمارے ساتھ نہیں ہیں آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم