گَٹَر کے ڈھکَّن ہی پرلکھنے کی کیوں سوجھی؟ عَرَبی زَبان کے علاوہ بشُمُول اُردو دنیا کی کسی بھی زَبان میں جب مدینہ کہا جائے گا تو ہر ایک اس سے مُراد مدینۃ النّبی
علیٰ صاحِبِہا الصلوٰۃُ وَالسَّلام
ہی لے گا۔ بلکہ عُلَمائے کِبار رحمہم اللہ الغفار نے مدینہ مُنوّرہ
کے جو مُتَعَدَّدَّ اسمائے مبارَکہ تحریر فرمائے ہیں اُن میں مُجَرَّد(یعنی تنہا )لفظ مدینہ بھی شامِل کیاہے۔ اور اس کو مدینۃُ المنوَّرہ
کی تاریخ پر لکھی ہوئی کتابوں میں دیکھا جا سکتا ہے مَثَلاً علامہ نور الدین علی بن احمد اَلسَّمہودی علیہ رحمۃ اللہ القوی نے وفاء الوفا ج ا ص ۲۲ میں مدینہ شریف کے بَہُت سارے اَسمائے مبارکہ لکھے ہیں اُن میں ایک نام مدینہ بھی لکھا ہے۔ بَہَرحال کسی بھی زاوِیہ سے گَٹَرکے ڈھکّن پر مدینہ بلکہ المدینۃ لکھنے کو عُشّاق کا دل تسلیم کر ہی نہیں سکتا ۔ ''المدینۃ '' کیا ہے یہ تو عُشّاق کا دل ہی جانتا ہے۔ عاشِقوں کے امام، امامِ اہلسنّت،مُجَدِّد ِ دین و ملّت ، پروانہ شمعِ رسالت ، عاشِقِ ماہِ نُبُوَّت مولیٰنا شاہ احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمٰن کے نزدیک مدینہ
کی اَھَمِّیَّت ملاحَظہ ہو۔ چُنانچِہ فرماتے ہیں ؎