Brailvi Books

فیضانِ بسم اللہ
93 - 167
فرمانِ مصطَفےٰ :(صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم)تم جہاں بھی ہو مجھ پر دُرُود پڑھوکہ تمہارا دُرُود مجھ تک پہنچتا ہے ۔
دیوانے کی جواب
عَرَبی میں شہر کیلئے ''بَلَد'' کا لفظ بھی معروف ہے مدینہ مُنوَّرہ کی شہری انتِظامیہ کو بھی بَلَدِیّہ ہی کہتے ہیں آخِر ایسا پیارا نام مدینہ
زادَھَااللہُ شَرَفًا
گَٹَر کے ڈھکَّن ہی پرلکھنے کی کیوں سوجھی؟ عَرَبی زَبان کے علاوہ بشُمُول اُردو دنیا کی کسی بھی زَبان میں جب مدینہ کہا جائے گا تو ہر ایک اس سے مُراد مدینۃ النّبی
علیٰ صاحِبِہا الصلوٰۃُ وَالسَّلام
ہی لے گا۔ بلکہ عُلَمائے کِبار رحمہم اللہ الغفار نے مدینہ مُنوّرہ
 زادَھَااللہُ شَرَفًا
کے جو مُتَعَدَّدَّ اسمائے مبارَکہ تحریر فرمائے ہیں اُن میں مُجَرَّد(یعنی تنہا )لفظ مدینہ بھی شامِل کیاہے۔ اور اس کو مدینۃُ المنوَّرہ
زادَھَااللہُ شَرَفًا
کی تاریخ پر لکھی ہوئی کتابوں میں دیکھا جا سکتا ہے مَثَلاً علامہ نور الدین علی بن احمد اَلسَّمہودی علیہ رحمۃ اللہ القوی نے وفاء الوفا ج ا ص ۲۲ میں مدینہ شریف کے بَہُت سارے اَسمائے مبارکہ لکھے ہیں اُن میں ایک نام مدینہ بھی لکھا ہے۔ بَہَرحال کسی بھی زاوِیہ سے گَٹَرکے ڈھکّن پر مدینہ بلکہ المدینۃ لکھنے کو عُشّاق کا دل تسلیم کر ہی نہیں سکتا ۔ ''المدینۃ '' کیا ہے یہ تو عُشّاق کا دل ہی جانتا ہے۔ عاشِقوں کے امام، امامِ اہلسنّت،مُجَدِّد ِ دین و ملّت ، پروانہ شمعِ رسالت ، عاشِقِ ماہِ نُبُوَّت مولیٰنا شاہ احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمٰن کے نزدیک مدینہ
زادَھَااللہُ شَرَفًا
کی اَھَمِّیَّت ملاحَظہ ہو۔ چُنانچِہ فرماتے ہیں ؎
   (حدائقِ بخشِش شریف)
Flag Counter