''اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ
میرے پاس قِیام کی سَہولت موجود ہے۔'' کہا ،'' کھانا ہی کھا لیجئے۔'' میں نے جوابدیا ،'' اِس کی فی الحال حاجت نہیں، ''کہا،'' میری طرف سے کچھ رقم قَبول کر لیجئے،'' میں نے شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا، ''میں حاجتمند نہیں،
اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ
میرے پاس اَخراجات موجود ہیں۔ ''بَہَرحال وہ خوش عقیدہ شخص تھا اور اُس نے مجھ سے بَہُت ہی مَحَبّت کا اظہار کیا، میرے لئے وہ اجنبی تھا اوراس کے بعدپھر کبھی اس سے ملاقات نہیں ہوئی ۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ اُس کو اِس کا اجرِ عظیم عطا فرمائے ۔ اور ہر مسلمان کو بے اَدَبی اور بے ادَبوں کے شر سے محفوظ رکھے۔
امین بِجاہِ النَّبِیِّ الْاَمین صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم
محفوظ خدا رکھنا سَدابے اَدَبوں سے
اور مجھ سے بھی سر زد نہ کبھی بے اَدَبی ہو
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالیٰ علیٰ محمَّد
رَبی میں مدینہ کے معنیٰ ''شہر'' ہے۔ اِس لئے گَٹَر کے ڈھکّن پر مدینہ لکھنے میں حَرْج نہیں۔