علیٰ صاحِبِہا الصلوٰۃ ُوَالسَّلام
کی مشرِقی جانِب بابِ جبرئیل کے سامنے ایک قدیم گلی تھی جو کہ جنَّتُ الْبقیع کی طرف جاتی تھی اُس مقدّس گلی کو عُشّاق بِہشتی گلی کہا کرتے تھے، اُس میں کئی یاد گاریں مَثَلاً اہلِ بیتِ اَطہار علیھم الرضوان کے مکانات طیِّبات وغیرہ تھے ، اب وہ میٹھی میٹھی حقیقی مَدَنی گلی شہید کر دی گئی ہے۔ ۱۴۰۰ ھ کی ایک سُہانی شام کو (سگ ِمدینہ )اُسی بِہشتی گلی سے گزر رہا تھا کہ گَٹَر کے ایک ڈھکّن کی عَرَبی لکھائی پر نظر پڑی ۔ غور سے دیکھا تو اُس پر لوہے کی ڈَھلائی سے '' مَجاری المدینۃ''تحریر تھا میں نے جذبہ عقیدت میں اس تحریر کو چوم لیا اور جن بدنصیبوں نے میرے میٹھے میٹھے مدینہ
کے نام کو گَٹَر کے ڈھکَّن پر لکھوایا اُن سے میرے دل میں اِس قَدَر شدیدنفرت پیدا ہوئی کہ میں بتا نہیں سکتا۔ چُومتاہوا دیکھ کرایک یَمَنی بوڑھے نے مجھے جِھڑکا ، میں سر نیچا کئے تیزی سے آگے بڑھ گیا ۔ ابھی تھوڑا ہی چلا تھا کہ پیچھے سے کسی کے سلام کرنے کی آواز آئی، میں نے مڑ کر دیکھا تو کوئی پاکستانی تھا، بڑے پُرتَپاک طریقے سے ملا اور تعجُّب کی بات یہ ہے کہ مجھ سے معذرت کرتے ہوئے کہنے لگا،'' اُس یَمَنی