Brailvi Books

فیضانِ بسم اللہ
90 - 167
فرمانِ مصطَفےٰ :(صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم)جس کے پاس میرا ذکر ہوا اور اُس نے مجھ پر درودِ پاک نہ پڑھا تحقیق وہ بد بخت ہوگیا۔
جانے والی تمام زَبانیں اِلہامی ہیں،ظاہِر ہے زمین پر کسی بھی زَبان میں لکھنے سے اُس کی بے اَدَبی یقینی ہے، آج کل ٹریفک کے مَحکمہ کی جانب سے رہنُمائی کیلئے سڑکوں پر بعض تحریریں ہوتی ہیں یہ غَلَط طریقہ ہے، کاش! صِرْف رنگ برنگے (مگر سبز کے علاوہ)پَٹوں سے کام چلایا جاتا ۔ دروازوں پرایسے پائیدان نہ رکھے جائیں جن پر WELL COME
لکھا ہو تا ہے۔افسوس ! آج کل حُرُوف کا ادَب کرنا تقریباً نا ممکن ہو گیا ہے ۔ عُمُوماً بچھانے کی دری و چادر پر نیز فوم کے گدیلوں کے اَستر اور پلنگ کی چادَروں پر کمپنی یا ڈیکوریشن کا نام تحریر ہوتا ہے، W.C پر، چپَّلوں اور جوتوں کے اندر ونی حِصّوں بلکہ تلووں پر اور کپڑے کی کَناریوں پر کارخانے کے نام وغیرہ کی لکھائی ہوتی ہے ۔ بعض اَوقات سِلائی میں پاجامے کے اندر بیٹھنے کی جگہ پر تحریر آجاتی ہے تو مسلسل بے ادَبی کا سلسلہ رہتا ہے۔ بلکہ سب سے زیادہ تشویشناک بات یہ ہے کہ عُمُوماً ہر'' لال اینٹ ''پر اور'' فلور ٹائل'' کے نیچے لکھائی ہوتی ہے ۔ بَھٹّے کی لال اینٹوں اور فلور ٹائلز کی لکھائی گرینڈر سے مٹائی جا سکتی ہے اور زیادہ مقدار میں خریدنے والے کارخانے والوں سے بِغیر لکھائی کے بھی بنوا سکتے ہیں مگر اتنی ساری زَحْمتیں اُٹھانے والا بااَدب مَدَنی ذِہن کیسے بنے؟ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی عطا کردہ توفیق سے سب ممکن ہے۔ ایکبار(بابُ المدینہ)کراچی میں فَرْش پر رکھی ایک لال اینٹ کی لکھائی دیکھ کر سگِ مدینہ عُفِیَ عنہ کا دل بے قرار ہو گیا اُس پرعمرلکھا ہوا تھا ۔ لال اینٹیں حمام
Flag Counter