| فیضانِ بسم اللہ |
فرمانِ مصطَفےٰ :(صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم)جس کے پاس میرا ذکر ہو اور وہ مجھ پر دُرُود شریف نہ پڑھے تو لوگوں میں وہ کنجوس ترین شخص ہے۔
ہُوئی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم
تھی کہ انتِقال سے دو روز پہلے ایک کاغذ پر لکھی تھی ۔ بعد،فقیر (یعنی سرکارِ اعلیٰحضرت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ )نے حُضور پیرومُرشد ِ برحق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو رُؤ یا(یعنی خواب)میں دیکھا کہ حضرت والِد ماجِد قُدِّسَ سرُّہُ الْماجِدکے مَرقد (مزار) پر تشریف لائے۔غلام نے عرض کیا،'' حُضور!یہاں کہاں؟'' فرمایا، آج سے ،یا اب سے یہیں رہا کریں گے۔ ( حیات اعلیٰحضرت ج۱ ص ۵۰،۵۱مکتبۃ المدینہ باب المدینہ کراچی) اﷲ عَزَّوّجَلَّ کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری مغفِرت ہو ۔
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالیٰ علیٰ محمَّد
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم
لکھنے کاعظیم ثواب پانے کیلئے ہو سکے توکبھی کبھی باوُضوخوش خَطی کے ساتھ کاغذوغیرہ پر
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم
تحریرفرمالیاکریں،لیکن بے ادَبی کی جگہ ہرگزنہ لکھئے،دیواروں پربھی آیات و مقدّس کلِمات مت لکھئے کہ آہِستہ آہِستہ لِکھائی کے ذرّات زمین پر جَھڑ جاتے ہیں۔(لہٰذا مساجد میں بھی اِس ادَب کا خیال رکھئے)اورزمین پرلکھنے کے بارے میں توخودہمارے میٹھے میٹھے آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے صَرَاَحَۃً مَنْع فرمادیاہے،چُنانچِہ