| فیضانِ بسم اللہ |
فرمانِ مصطَفےٰ :(صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم) اُس شخص کی ناک خاک آلود ہو جس کے پاس میرا ذکر ہو ا وروہ مجھ پر دُرُود پاک نہ پڑھے۔
والد گرامی تاج العلماء،رأس الفضلا، رئیس المتکلمین حضرت سیدنا شاہ نقی علی خان قادری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے ذُوالْقَعْدَۃِ الْحرام ۱۲۹۷ھ جمعرات بوقتِ ظُہر وصال فرمایا۔ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی زِندگی کی آخِری تحریر
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم
تھی۔سرکارِ اعلیٰحضرت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے وِصال شریف کی رقّت انگیز منظر کشی کرتے ہوئے فرماتے ہیں، ''روزِ وِصال نَمازِصبح(فجر)پڑھ لی تھی اور ہُنوز(یعنی ابھی )وقتِ ظُہر باقی تھا کہ انتِقال فرمایا۔ نَزْع میں سب حاضِرین نے دیکھا کہ آنکھیں بند کئے مُتَواتَر سلام فرماتے تھے۔ (یہ اس طرف اِشارہ معلوم ہوتا ہے کہ اولیائے کرام
رَحِمَہُمُ اللہُ تعالٰی
کی ارواحِ مقدّسہ استِقبال کیلئے جمع ہورہی تھیں)جب چند سانس باقی رہے۔ ہاتھوں کو اَعضائے وُضو پر یوں پھیرا گویا وُضو فرما رہے ہیں۔ یہاں تک کہ اِسْتِنْشاق(یعنی ناک کی صفائی)بھی فرمایا۔
سُبحٰن اللہ عَزَّوّجَلَّ
وہ اپنے طور پر حالتِ بیہوشی میں نَمازِ ظہر بھی ادا فرما گئے۔ جس وَقْت روحِ پُر فُتُوح نے جُدائی فرمائی ،فَقیر سِرہانے حاضِر تھا ۔
وَاللہِ الْعَظِیْمِ
ایک نورِ مَلیح (یعنی حسین نور)عَلانیہ نظر آیا (یعنی جو بھی موجود تھا وہ دیکھ سکتا تھا)کہ سینہ سے اُٹھ کر برقِ تابِندہ (یعنی چمکدار بجلی)کی طرح چہرہ پر چمکا جس طرح لمعانِ خورشید (یعنی سورج کی روشنی)آئینہ میں جُبنش کرتا ہے ۔ یہ حالت ہو کر غائب ہو گیا اس کے ساتھ ہی روح بدن میں نہ تھی ۔ پچھلا (یعنی آخِری )کلِمہ زَبانِ فیض تَرجُمان سے نکلا،لفظ اللہ تھا وَ بس۔ اور اَخیر تحریرکہ دستِ مبارَک سے ہُوئی
ایک نورِ مَلیح (یعنی حسین نور)عَلانیہ نظر آیا (یعنی جو بھی موجود تھا وہ دیکھ سکتا تھا)کہ سینہ سے اُٹھ کر برقِ تابِندہ (یعنی چمکدار بجلی)کی طرح چہرہ پر چمکا جس طرح لمعانِ خورشید (یعنی سورج کی روشنی)آئینہ میں جُبنش کرتا ہے ۔ یہ حالت ہو کر غائب ہو گیا اس کے ساتھ ہی روح بدن میں نہ تھی ۔ پچھلا (یعنی آخِری )کلِمہ زَبانِ فیض تَرجُمان سے نکلا،لفظ اللہ تھا وَ بس۔ اور اَخیر تحریرکہ دستِ مبارَک سے