ایک مُبلِّغ اجتِماع میں بسم اﷲشریف کے فضائل بیان فرمارہے تھے ۔ ایک یہودن لڑکی فَضائلِ بسمِ اﷲ سُن کربے حدمُتَأَثِّرْ(مُتَ۔ ءَ ثْ۔ ثِرْ) ہوئی اور اس نے اسلام قَبول کرلیا۔اُس کی زَبان پر
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم
کا وِرْد جاری ہوگیا۔ ہروَقت اٹھتے ، بیٹھتے، سوتے، جاگتے،چلتے،پھرتے،بسم اﷲ پڑھتی رہتی۔لڑ کی کے کافِرماں باپ اس سے سخت ناراض رہنے اوراس کوطرح طرح کی تکلیفیں دینے لگے نیزاسلام دشمنی کے سبب اِس کوشِش میں لگ گئے کہ اپنی بیٹی پرکوئی الزام عائِدکرکے مَعاذَاللہ اس کو قتل کروادیں۔چُنانچِہ ایک دن اُس کے باپ نے جو کہ بادشاہِ وَقت کا وزیر تھا ۔ شاہی مُہروالی انگوٹھی بیٹی کو رکھنے کیلئے دی،
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم
پڑھ کر جیب میں ڈال لی ۔رات کوجب وہ سوگئی تواُس کے باپ نے اُس کی جیب سے اَنگوٹھی نکال کر دریا میں ڈال دی۔ایک مچھلی نے وہ انگوٹھی نگل لی۔صبح کوایک ماہی گیرنے جال ڈالاتو