Brailvi Books

فیضانِ بسم اللہ
85 - 167
فرمانِ مصطَفےٰ :(صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم)جس نے مجھ پرروزِ جُمُعہ دو سو بار دُرُود پاک پڑھا اُس کے دو سو سال کے گناہ مُعاف ہوں گے۔
کریگا، کاش! دنیا میں میری کوئی دُعا قَبول نہ ہوتی اور سب یَہیں (یعنی آخِرت )کے واسِطے جَمْع ْہوجاتیں۔''
 (احسنُ الوعا ء ص ۳۷ حاشیہ مَعْ تَو ضِیح)
ایک حدیثِ پاک میں ہے،'' جس کو دعا کی توفیق دی جائے دروازے بہشت(یعنی جنّت)کے اس کیلئے کھولے جائیں گے۔''                 ( اَیضا ۱۴۱)
بسمِ اﷲکی دیوانی
ایک مُبلِّغ اجتِماع میں بسم اﷲشریف کے فضائل بیان فرمارہے تھے ۔ ایک یہودن لڑکی فَضائلِ بسمِ اﷲ سُن کربے حدمُتَأَثِّرْ(مُتَ۔ ءَ ثْ۔ ثِرْ) ہوئی اور اس نے اسلام قَبول کرلیا۔اُس کی زَبان پر
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم
کا وِرْد جاری ہوگیا۔ ہروَقت اٹھتے ، بیٹھتے، سوتے، جاگتے،چلتے،پھرتے،بسم اﷲ پڑھتی رہتی۔لڑ کی کے کافِرماں باپ اس سے سخت ناراض رہنے اوراس کوطرح طرح کی تکلیفیں دینے لگے نیزاسلام دشمنی کے سبب اِس کوشِش میں لگ گئے کہ اپنی بیٹی پرکوئی الزام عائِدکرکے مَعاذَاللہ اس کو قتل کروادیں۔چُنانچِہ ایک دن اُس کے باپ نے جو کہ بادشاہِ وَقت کا وزیر تھا ۔ شاہی مُہروالی انگوٹھی بیٹی کو رکھنے کیلئے دی،
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم
پڑھ کراُس نے لی اور
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم
پڑھ کر جیب میں ڈال لی ۔رات کوجب وہ سوگئی تواُس کے باپ نے اُس کی جیب سے اَنگوٹھی نکال کر دریا میں ڈال دی۔ایک مچھلی نے وہ انگوٹھی نگل لی۔صبح کوایک ماہی گیرنے جال ڈالاتو
Flag Counter