Brailvi Books

فیضانِ بسم اللہ
84 - 167
فرمانِ مصطَفےٰ :(صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم)جو مجھ پر روزِ جمعہ دُرُود شریف پڑھے گا میں قِیامت کے دن اُس کی شفاعت کروں گا۔
وَعَسٰۤی اَنۡ تَکْرَہُوۡا شَیْـًٔا وَّہُوَ خَیۡرٌ لَّکُمْ ۚ وَعَسٰۤی اَنۡ تُحِبُّوۡا شَیْـًٔا وَّہُوَ شَرٌّ لَّکُمْ ؕ وَاللہُ یَعْلَمُ وَ اَنۡتُمْ لَا تَعْلَمُوۡنَ ﴿۲۱۶﴾٪
 (پ ۲ البقرہ ۲۱۶)
ترجَمَہ کنزالایمان: اور قریب ہے کہ کوئی بات تمہیں بری لگے اور وہ تمہارے حق میں بہتر ہو۔ اورقریب ہے کہ کوئی بات تمہیں پسند آئے اور وہ تمہارے حق میں بُری ہو اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔

(۲) اس دعاء مانگنے والے پر کوئی سخت بلا ومصیبت آنی تھی۔ جسے اس کا پروردگار عَزَّوَجَلَّ اس بظاہِرقَبول نہ ہونے والی دُعا کے صِلہ میں دُور فرما دیتا ہے۔ مَثَلاً اتوار کو بعد ِ نمازِ مغرب اسکوٹر کے حادثے میں اِس کا پاؤں ٹوٹنے والا تھا اور عَصْرْ کی نَماز میں اِس نے دعاء مانگی، یااللہ ! فُلاں پر میرا 1000 روپیہ قرض ہے وہ آج مغرِب کے بعد مل جائے ۔ یہ نمازِ مغرب ادا کر کے صحیح سلامت مقروض کے پاس پہنچ گیا۔ اُس نے قرض نہیں لوٹایا، یہ دعا مانگنے والا سمجھا کہ میری دعا قَبول نہیں ہوئی ۔ مگر اِس بے خبر کو کیا خبر کہ مقروض کے پاس پہنچنے سے قَبل حادِثے میں اِس کا جو پاؤں ٹوٹنے والا تھا وہ اِس دعاء کی بَرَکت سے نہیں ٹوٹا!

(۳) یہ کہ جو مانگا وہ نہیں دیا جاتا بلکہ اس دعا کے عِوَض (عِ۔ وَ ضْ)آخِرت میں ثواب کا ذَخیرہ عطا کیا جائے گا۔ جیسا کہ حدیثِ پاک میں فرمایا، '' جب بندہ آخِرت میں اپنی اُن دعاؤں کا ثواب دیکھے گا جو دنیا میں مقبول نہ ہوئی تھیں، تمنّا
Flag Counter