Brailvi Books

فیضانِ بسم اللہ
83 - 167
فرمانِ مصطَفےٰ :(صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم)جب تم مُرسلین (علیھم السلام )پر دُرُود پاک پڑھو تو مجھ پر بھی پڑھو بے شک میں تمام جہانوں کے رب کا رسول ہوں ۔
    صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !                صلَّی اللہُ تعالیٰ علیٰ محمَّد 

            تُوبُوا اِلَی اللہ!                               اَسْتَغْفِرُاللہ

    صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !                صلَّی اللہُ تعالیٰ علیٰ محمَّد
     اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ دل کی گہرائی سے نکلی ہوئی دعاء کبھی ردّ نہیں ہو سکتی ۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں جو بھی دعاء مانگی جائے وہ لازِماً قَبول ہوتی ہے اورکیوں نہ ہو کہ خودہمارے پیارے پیارے سچّے اللہ عَزَّوَجَلَّ کا سچَّا فرمان ہے:۔
 وَ قَالَ رَبُّکُمُ ادْعُوۡنِیۡۤ اَسْتَجِبْ لَکُمْ ؕ
 ( پ ۲۴ المؤمِن ۶۰)
ترجَمہ کنزالایمان:اور تمہارے ربّ (عَزَّوَجَلَّ)نے فرمایا ، مجھ سے دعا کرو میں قَبول کروں گا۔

وَسَوسہ: خدائے حَمید عَزَّوَجَلَّ کلامِ مجید میں جب خودارشاد فرماتا ہے کہ ''مجھ سے دعا کرو، میں قَبول کرونگا'' مگر بارہا قَبولیّتِ دُعا کا اظہار نہیں ہوتا۔مَثَلاً دعا کی جاتی ہے فُلاں جگہ نوکَری مل جائے مگر نہیں ملتی۔

وَسْوَسہ کا علاج:'' قَبول ہونے کے معنیٰ سمجھنے میں خطا کھانے کی وجہ سے شیطان وَسْوَسے ڈالتا ہے۔ دُعاء قَبول ہی قَبول ہے۔ قَبولیَّت کی صورَتیں مختلف ہیں، قَبولیَّت دُعاء کی تین صورَتیں مُلا حَظہ فرمائیے:۔

(۱)جو اس نے مانگا وہ نہ دیا گیا کہ اس کے حق میں بہتر نہ تھا اور وہ
اَرْحَمُ الرَّاحِمِیْن جلّ جَلَا لُہ ٗ
ا پنے بندوں کے حق میں بہتر ی چاہتا ہے۔
Flag Counter