ایک مزدور کے گُردے فیل ہو گئے ۔ عزیزوں نے اَسپتال میں داخِل کروا دیا ۔ اُس کااَوباش بھانجہ عِیادت کیلئے آیا۔ ماموں جان زندگی کی آخری گھڑیاں گِن رہے تھے۔ اِس کادل بھر آیا اور آنکھوں سے آنسو چھلک پڑے ۔ اُس نے سُن رکھا تھا کہ دعوتِ اسلامی کے مَدَنی قافِلے میں سفر کے دَوران دُعا قَبول ہوتی ہے ۔ چُنانچِہ وہ مَدَنی قافِلے میں سفر پر چل دیا اور خوب گڑگِڑا کر ماموں جان کی صِحّت یابی کیلئے دُعا کی۔ جب واپَس پلٹا تو ماموں جان صِحّت یاب ہو کر گھر بھی آچکے تھے اور اب نَماز کیلئے گھر سے نکل کر خِراماں خِراماں جانبِ مسجِد رَواں دَواں تھے۔ یہ رَحمت بھرا منظر دیکھ کر اُس نوجوان نے گناہوں بھری زندگی سے توبہ کی اور اپنے آپ کو مَدَنی رنگ میں رنگ لیا۔