اما مُ المُخْلِصِین، سیِّدُالمُر سَلین، رَحْمَۃٌلِّلْعٰلَمِین صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم
کا فرمانِ قَبولیّت نشان ہے،
اَخْلِصْ دِیْنَکَ یَکْفِکَ الْعَمَلُ الْقَلِیْلُ
'' اپنے دین میں مخلص ہو جاؤ تھوڑا عمل بھی کافی ہو گا۔''
(اَلْمُسْتَدْرَک لِلحاکِم ج۵ص ۴۳۵ رقم الحدیث ۷۹۱۴)
حُجَّۃُ الْاِسلام حضرتِ امام محمد غزالی علیہ رحمۃ الوالی ایک بُزُرگ سے نَقْل کرتے ہیں ، '' ایک ساعت کا اِخلاص ہمیشہ کی نَجات کا باعِث ہے مگر اِخلاص بَہُت کم پایا جاتا ہے۔''
( اِحیاءُ الْعُلوم ج ۴ ص ۳۹۹)
حضرتِ سیِّدُنا عیسیٰ روحُ اللہ
عَلیٰ نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلوٰۃُ وَالسَّلام
کے حواریوں نے آپ علیہ السلام کی خدمت میں عرض کیا ،''کس کا عمل خالِص ہوتا ہے؟'' فرمایا، ''اُسی شخص کا عمل اِخلاص پرمبنیمانا جائیگا جو صِرْف اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رِضا کیلئے عمل کرے اور اِس بات کو نا پسند کرے کہ لوگ اِس عمل کے سبب اس کی تعریف کریں۔ ''(اَیضاً ص ۴۰۳)اﷲعَزَّوّجَلَّ کی اُن پر رَحمت ہو اور اُن کے صَدقے ہماری مغفِرت ہو۔
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالیٰ علیٰ محمَّد