سے رِوایت ہے،''ایک شَخْص نے
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم
کوخوب عُمدَگی سے پڑھا،اُس کی بخشِش ہوگئی ۔''
(شُعُبُ الایمان ج۲ص۵۴۶ رقم الحدیث ۲۶۶۷)
نامِ خُدا عزّوجل کی مٹھاس باعثِ نَجات ہے
ایک گناہ گارکومرنے کے بعدکسی نے خواب میں دیکھ کرپوچھا،
یعنی اﷲ عَزَّوَجَلَّ نے تیرے ساتھ کیامعامَلہ فرمایا؟اُس نے جواب دیا،ایک بار میں ایک مدرَسے کیطرف سے گزرااورایک پڑھنے والے نے
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم
پڑھی،سُن کرمیرے دل میں اللہ عَزَّوَجَلَّ کے میٹھے میٹھے نام کی مٹھاس نے اثرکیااوراُسی وقت میں نے یہ غیبی آواز سُنی،''ہم دو چیزوں کو جمع نہ کریں گے (۱)اﷲ عَزَّوَجَلَّ کے نام کی لذَّت(۲)موت کی تَلخی۔''
اﷲ عَزَّوّجَلَّ کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری مغفِرت ہو۔
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اِس حکایت سے معلوم ہوا کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے نامِ نامی اِسمِ گرامی سے لذّت اندوز ہونے والا، رَحمتوں کے سائے میں دنیا سے رخصت ہوتا ہے اور موت اُس کے لئے نجات وبخشش کا پیام