بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم
لکھنا شروع کر کے ناک کے آخِر پر ختْم کرے
حضرت مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃ المنّان فرماتے ہیں ، جو بیمار بسم اﷲ کہہ کر دواء پئے ان شاءَ اﷲعَزَّوَجَلَّ دوا فائدہ دیگی ۔ ایک بار حضرتِ سیِّدُنا موسیٰ کلیم اﷲ
عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلوٰۃُ وَالسَّلا م
کے پیٹ میں نہایت سخت درد ہوا ، حق تعالیٰ کی بارگاہ میں عرض کیا۔ ارشاد ہوا کہ جنگل کی فُلاں بُوٹی کھاؤ۔ چُنانچِہ آپ علیہ السلام نے کھائی اور فوراً آرام ہو گیا ۔کچھ دنوں بعد پھر وُہی بیماری ہوئی ، حضرتِ سیِّدُنا موسیٰ کلیم اﷲ
عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلوٰۃُ وَالسَّلام
نے پھر وُہی استِعمال کی مگر درد میں زیادَتی ہو گئی! جنابِ باری عَزَّوَجَلَّ میں عرض کیا کہ الہٰی ! یہ کیا بَھید ہے کہ دوا ایک تاثیر دو !کہ پہلی بار اس نے شِفا دی اور اس دَفْعَہ(دَفْ۔عَہ)بیماری بڑھائی ! ارشادِ الہٰی عَزَّوَجَلَّ ہوا کہ اے موسیٰ! اُس بار تم میری طرف سے بُوٹی کے پاس گئے تھے اوراِس دَفْعہ اپنی طرف سے ۔ اے موسیٰ ! شِفا تو میرے