Brailvi Books

فیضانِ بسم اللہ
67 - 167
فرمانِ مصطَفےٰ :(صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم)جس نے مجھ پرروزِ جُمُعہ دو سو بار دُرُود پاک پڑھا اُس کے دو سو سال کے گناہ مُعاف ہوں گے۔
دے دیا ہے اِس پر مایوس کیوں ہوتے ہیں ، اللہ عَزَّوَجَلَّ شفاء عطا فرمانے والا ہے ، مُسافر کی دعاأاللہ عَزَّوَجَلَّ قَبول فرماتاہے آپ عاشِقانِ رسول صلی اﷲ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے ساتھ مَدَ نی قافِلے میں سفر کیجئے اور اِس دَوران والِدہ کے لئے دعاء بھی مانگئے ،  اُس مُبلّغ کی دِلجوئی بھری اِنفِرادی کوشِش کے نتیجے میں غمزدہ نو جوان نے سُنَّتوں کی تربیَّت کے مَدَنی قافِلے میں سفر کیا، دورانِ سفر والِدہ کیلئے خوب دُعا مانگی۔ جب گھر لوٹا تو یہ دیکھ کر اُس کی خوشی کی اِنتِہا نہ رہی کہ مَدَنی قافِلے کی بَرَکت سے اُس کی والدہ کی آنکھوں کا نُور واپَس آ چکا تھا۔
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ علیٰ اِحْسانہٖ
    میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! مَدینے کے تاجدارصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمانِ خوشگوار ہے ، تین قسم کی دُعائیں مَقبول ہیں انکی قبولیّت میں کوئی شک نہیں۔(۱) مَظلوم کی دُعا(۲) مُسافر کی دُعا (۳) اپنے بیٹے کے حق میں باپ کی دُعا۔
(جامِع تِرمِذی ج۵ ص ۲۸۰ رقم الحدیث ۳۴۵۹)
سفر اور وہ بھی مَدَنی قافِلے
Flag Counter