| فیضانِ بسم اللہ |
فرمانِ مصطَفےٰ :(صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم) جس نے یہ کہا ،جزی اللہ عنّا محمّدا مّا ھو اھلہ،ستر فِرِشتے ایک دن تک اس کیلئے نیکیاں لکھتے رہیں گے۔
تھے کیو ں کہ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے یہاں بکثرت دَرِندے (شیر چیتے)وغیرہ حاضِر ہو تے تھے اور آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ گوشت کے ذَرِیْعے اُن کی ضِیافت فرماتے۔ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ آخِری عمر میں اپاہج ہو گئے تھے مگر جب نَماز کا وَقْت آتا تو ہاتھ پاؤں کُھل جاتے اور نَماز سے فارِغ ہو جاتے تو حسبِ سابِق معذور ہو جاتے۔
(الرسالۃ القشیریۃ ص۳۸۷)
اﷲ عَزَّوّجَلَّ کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری مغفِرت ہو۔
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالیٰ علیٰ محمَّد
بُخار کی علاج
مُنقول ہے، ایک شخص کو بخار آ گیا، اُس کے استاذِ محترم حضرت شیخ فقیہ ولی عمر بن سعید علیہ رحمۃُ اللہِ المُعید عِیادت کیلئے تشریف لائے، جاتے ہوئے ایک تعویذ عنایت کر کے فرمایا ، اِس کو کھول کر دیکھنا مت۔ اُن کے جانے کے بعد اُس نے تعویذ باندھ لیا، فوراً بخار جاتا رہا۔ اُ س سے رہا نہ گیا،کھول کر جو دیکھاتو
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم
لکھا تھا۔دل میں وَسوَسہ آیا ، یہ تو کوئی بھی لکھ سکتاہے! عقیدت میں کمی آتے ہی فوراً بخار لوٹ آیا ۔ گھبرا کرحضرت کی خدمت میں حاضِر ہو کرغَلَطی کی مُعافی چاہی۔ اُنہوں نے تعویذ بنا کر اپنے دستِ مبارَک سے باندھ دیا ، بخار فوراً چلا گیا ۔ اب کی بار دیکھنے کی مُمانَعَت نہ فرمائی تھی مگر ڈرکے مارے کھول کر نہ دیکھا ۔ بِالآخِر سال بھر کے بعد جب کھول کر دیکھا تو وُہی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم
تحریر تھی۔ اﷲ