Brailvi Books

فیضانِ بسم اللہ
62 - 167
فرمانِ مصطَفےٰ :(صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم)جو مجھ پر ایک مرتبہ دُرُود شریف پڑھتا ہے اللہ تعالیٰ اُس کیلئے ایک قیراط اجر لکھتا ہے اور قیراط احد پہاڑ جتنا ہے ۔
کیلئے بٹھاتے تو بِٹھادیا مگربے چارہ جو سنّتیں وغیرہ سیکھ کر آتا وہ گھر میں بیا ن کردیتا تو اُس کا مذاق اڑاتے۔ آخِرش اُس کا دل ٹوٹ گیا اور اُس نے مدرَسۃُ المدینہ میں جانا چھوڑدیا ۔ اب بُرے دوستوں کی صُحبت میں رَہ کر آوارہ ہو گیا ہے ،اِتّفِاق سے مجھے دعوتِ اسلامی کا مَدَنی ماحول مل گیا ہے اب میں سخْت پچھتا رہی ہوں ،ہائے میرا کیا بنے گا !
درِندوں کا گھر
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! حضرتِ سیِّدُنا سَہْل بن عبداللہ تُسْتَری
علیہ رحمۃُ اللہِ الْبَرّی
صِدّ یق(یعنی اوّل دَرَجے کے اولیاء میں سے)تھے۔ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نمک اسلئے استِعمال نہیں فرماتے تھے کہ نمک کی وجہ سے کھانا لذیذ ہو جاتا ہے۔ اور آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ لذَّتوں سے دور رہتے تھے۔ واقِعی قورمہ بریانی وغیرہ میں چاہے ہزار مَصالحہ جات ڈالیں، اگر نمک نہیں ڈالیں گے تو کھانے کا سارا مزہ کِرکِرا ہو جائے گا۔ یہ بھی یاد رہے کہ نمک کی ایک مخصوص مقدار بدنِ انسانی کیلئے ضَروری ہے اوریہ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی کرامت تھی کہ بِغیر نمک استِعمال کئے زندہ تھے!تُستَر شریف میں واقِع آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے مکانِ عالیشان کو لوگ ''بیتُ السِبّاَع'' یعنی دَرِندوں کا گھر کہتے
Flag Counter