اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ
میں روزانہ روزہ رکھتا تھا۔ بارہ سال کی عمر تک میں جَو کی روٹی کھاتا رہا ۔تیرہ سال کی عمر میں مجھے ایک مَسئلہ (مَس۔ء َ۔لَہ)پیش آیا ۔ اس کے حل کیلئے گھر والوں سے اجازت لیکر میں بصرہ آیا اور وہاں کے عُلَماء سے وہ مَسئلہ پوچھا، لیکن ان میں سے کسی نے بھی مجھے شافی جواب نہ دیا۔ پھر میں عَبَّادَان کی طرف چلا گیا ۔ وہاں کے مشہور عالمِ دین حضرتِ سیِّدُنا ابو حبیب حمزہ بن ابی عبداللہ عَباّدانی
قُدِّسَ سِرُّ ہُ الرَّبّانی
سے میں نے مَسئلہ پوچھا تو انہوں نے مجھے تسلّی بخش جواب دیا۔میں ایک عَرصہ تک ان کی صُحبت میں رہا، ان کے کلام سے فیض حاصِل کرتا اور ان سے آداب سیکھتا پھر میں تُسْتَر کی طرف آگیا ۔ میں نے گزارہ کا انتِظام یوں کیا کہ میرے لیے ایک دِرْہَم کے جَو شریف خریدلئے جاتے اور انہیں پیس کر روٹی پکالی جاتی۔ میں ہر رات سَحَری کے وَقْت ایک اُوْقِیَہ (یعنی تقریباً 70 گرام)جَو کی روٹی کھاتا ، جس میں نہ نمک ہوتا اور نہ ہی سالن۔ یہ ایک دِرہم مجھے سال بھر کیلئے کافی ہوتا ۔پھر میں نے ارادہ کیا کہ تین دن مسلسل فاقہ کروں گا