بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم
پڑھنے سے چِھہَتَّر ہزارنیکیاں ملیں گی ، چِھہَتَّر ہزار گناہ معاف ہونگے اور چِھہَتَّر ہزار دَرَجات بُلندہونگے۔
وَاللہُ ذُوالْفَضْلِ الْعَظِیم۔
(یعنی اوراللہ عَزَّوَجَلَّ صاحبِ فضلُ و عظمت ہے )
بوقتِ ذبح الرّحمن الرّحیم نہ پڑھنے کی حِکمت
حضرتِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃ المنّان خدائے رحمن عَزَّوَجَلَّ کی رَحْمتِ بے پایاں کا تذکِرہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں، ''غور تو کرو کہ سورہ توبہ میں
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم
نہیں لکھی گئی اِسی طرح ذَبْحْ کے وَقْت پوری بسم اﷲ نہیں پڑھتے بلکہ یوں کہتے ہیں
اِس میں کیا حکمت ہے؟ حکمت یہ ہے کہ سورہ توبہ میں اوّل سے آخِر تک جِہاد اور قِتال کا ذِکر ہے اور یہ کافِروں پر قَہْر ہے، اِسی طرح ذَبْحْ میں جانور کی جان لی جاتی ہے یہ بھی جَبر وقَہر کا وَقْت ہوتا ہے اس موقع پر رَحْمت کاذِکْرنہ کرو ۔
توجو شخص پوری بسم اﷲ شریف (یعنی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم)
خداکے غَضَب سے محفوظ رہے گا۔
(تفسیرِ نعیمی جلد اول ص ۴۳)
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالیٰ علیٰ محمَّد