Brailvi Books

فیضانِ بسم اللہ
51 - 167
فرمانِ مصطَفےٰ :(صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم) اُس شخص کی ناک خاک آلود ہو جس کے پاس میرا ذکر ہو ا وروہ مجھ پر دُرُود پاک نہ پڑھے۔
زِیارت ہوئی ،میں نے عرض کی ،یا رسولَ اللہ عَزَّوَجَلَّ و  صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم میرے ہاتھ پر چشمِ کرم فرمائیے۔فرمایا ! ہاتھ پھیلاؤ ،میں نے پھیلادیا تو سرکارصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اپنا دستِ مُبارَک پھیر دیا اور فرمایا ،کھڑے ہوجاؤ !جب کھڑا ہو اتو
اَلْحَمدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ
میٹھے میٹھے مصطَفےٰ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی بَرَکت سے میرے ہاتھ کی بیماری ختْم ہوچکی تھی۔            (اَیْضاً ص۵۲۸)
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !              صلّٰی اللہُ تعالیٰ علیٰ محمَّد
وَسوَسہ : صِرْف اللہ عَزَّوَجَلَّ ہی شِفا ء دینے والا ہے مگر ان حِکایات کو سُن کر وَسوَسے آتے ہیں کہ کیا اللہ عَزَّوَجَلَّ کے علاوہ بھی کوئی شِفاء دے سکتا ہے ؟

عِلاجِ وَسوَسہ : بے شک ذاتی طور پر صِرْف اور صِرْ ف اللہ عَزَّوَجَلَّ ہی شِفا ء دینے والا ہے ،مگراللہ عَزَّوَجَلَّ کی عطا سے اُس کے بندے بھی شِفادے سکتے ہیں ۔ ہاں اگر کوئی یہ دعویٰ کرے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی دی ہوئی طاقت کے بِغیر فُلاں دوسرے کو شِفاء دے سکتا ہے تو یقینا وہ کافِرہے ۔کیوں کہ شِفاء ہو یا دواء ایک ذرّہ بھی کوئی کسی کو اللہ عَزَّوَجَلَّ کی عطا کے بِغیر نہیں دے سکتا ۔ہر مسلمان کا یِہی عقیدہ ہے کہ انبِیاء و اَولیاء
عَلَیھِمُ السّلام و رَحِمَھُمُ اللہُ تعالیٰ
جو کچھ بھی دیتے ہیں وہ مَحْض
Flag Counter