سراپا بَرَکات ، منبعِ عنایات صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی زیارت سے مُشَرَّف ہوا ،میں نے سرکارِ نامدار صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی خدمت میں تکیہ پیش کیا ،سرکار صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ٹیک لگاکر تشریف فرماہوئے ،میں نے اپنی اور اپنے ضعیف العُمر والِد صاحِب کی بیماری کے بارے میں فریاد کی ۔میری فریاد سُن کر سرکارِ مدینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم اوپر کی منزل پر تشریف لے گئے ۔جب نمازِفجرْ کا وقت ہوا تو میرے کانوں میں آہ ! آہ!کی آواز آئی ، دراصل میرے والدِ محترم سیڑھیوں سے نیچے اُتر رہے تھے ، میرے پاس آکر فرمانے لگے ، بیٹا! کرم بالائے کرم ہوگیا ، آج شب رَحْمتِ عالَم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے مجھ پر کرم فرمادیا ۔میں نے عرض کیا،ابّا جان ! سرکار صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم مجھ گنہگار کے پاس ہی سے ہوکر آپ کونوازنے کیلئے اوپر کی منزِل پر جلوہ آراء ہوئے تھے ۔