| فیضانِ بسم اللہ |
فرمانِ مصطَفےٰ :(صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم)جو مجھ پر روزِ جمعہ دُرُود شریف پڑھے گا میں قِیامت کے دن اُس کی شفاعت کروں گا۔
(۲)آقا نے گِلٹِیوں کا عِلاج فرمادیا
حضرتِ سیِّدُنا تَقِیُّ الدّینابو محمد عبدالسّلام علیہ رحمۃُ ربّ ِالْاَ نام فرماتے ہیں ،''میرے بھائی ابراھیم کے گلے میں خَنازِیر (یعنی گِلٹیاں )ہوگئی تھیں ،شدَّتِ درد کے سبب بے قرار تھے ،خواب میں سرکارِ نامدار صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے کرم فرمایا ، عرض کیا ،یا رسولَ اللہ !عَزَّوَجَلَّ و صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم بیماری کے سبب سخت تکلیف میں ہوں ۔ فرمایا ،''تمہاری فریاد سُن لی گئی ہے ''۔
اَلْحمدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ
سرکارِ مدینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی بَر َکت سے میرے بھائی کو شِفاء حاصِل ہوگئی ۔(اَیْضاً ص ۵۲۶)
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالیٰ علیٰ محمَّد
(۳) آقا کے کرم سے د مّہ کے مریض کو شِفا ء ملی
ایک بُزُرگ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں ،میں سخت بیمار تھا اوراپنے مکان کی نِچلی منزِ ل پر صاحبِ فِراش (یعنی بچھونے پر پڑا)تھا ،میر ے ضعیفُ العمر والدِ گرامی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ضِیْق النَّفَس (یعنی دَمّہ)کے مرض کی شدّت کے باعث اوپر کی منزل پر بستر میں تھے ۔نہ میں اوپر چڑھ سکتا تھا نہ وہ بے چارے نیچے اُتَر پاتے تھے ۔
اَلْحمدُ لِلّٰہ عَزّوَجَلَّ
خوش قسمتی سے میں ایک رات سرورِکائنات ،شاہِ موجودات ،