سرکارِرسالت مآب صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے بمع چار یار علیھم الرضوان کرم فرمایا ۔ سرکارِمدینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے میری جانب اشارہ کرتے ہوئے حضرتِ سیِّدُنا ابو بکر صدیق رضی اللہ تعا لیٰ عنہ سے فرمایا، ''اِس کا درد ختمْ کردو'' ۔چُنانچِہ یارِ غار و یارِ مزار سیِّدُنا صِدّیقِ ا کبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے میرا اِس طرح مَدَنی آپریشن کیا کہ میرا سَر کھول دیا اور میرے دِماغ میں سے چار کالے دانے نکالے اور فرمایا، ''بیٹا !اب تمہیں کچھ نہیں ہوگا ۔''واقِعی وہ اسلامی بھائی با لکل تندُرُست ہوچکے تھے ۔ سفر سے واپَسی پر اُنہوں نے دوبارہ ''چیک اَپ ''کروایا ۔ڈاکٹر نے حیران ہوکر کہا بھائی کمال ہے، تمہارے دِماغ کے چاروں دانے غائب ہوچکے ہیں! اِس پر اُس نے رو رو کر مَدَنی قافِلے میں سفر کی بَرَکت اور خواب کا تذکِرہ کیا ۔ ڈاکٹر بَہُت مُتأَثِّر ہوا۔ اُس اَسپتال کے ڈاکٹروں سمیت وہاں موجود ۱۲ اَفراد نے ۱۲ دن کے مَدَنی قافِلے میں سفر کی نیّتیں لکھوائیں اور بعض ڈاکٹرز نے اپنے چِہرے پرہاتھوں ہاتھ سرورِ کائنات
صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی مَحَبَّت کی نشانی یعنی داڑھی مُبارک سجانے کی نیّت کی ۔