پڑھ لیا کریں۔ جو نہیں پڑھتا اس کا قَرِین نامی شیطان بھی کھانے میں ساتھ شریک ہو جاتا ہے ۔ سیِّدُنا اُمَیّہ بن مَخْشِی رضی اللہ تعالیٰ عنہ والی رِوایت سے صاف ظاہَر ہورہا ہے کہ ہمارے میٹھے میٹھے آقا مدینے والے مصطَفٰے صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی مقدَّس نگاھیں سب کچھ دیکھ لیا کرتی ہیں، جبھی تو شیطان کو قے کرتا ہوا ملاحَظہ فرمالیا اور شیطان کی بدحواسی دیکھ کرمسکرادیئے۔ چُنانچِہ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃ المنّان فرماتے ہیں، رحمتِ عالَم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی مقدَّس نظریں حقیقت میں چُھپی ہوئی مخلوق کو بھی مُلاحَظہ فرماتی ہیں، اور حدیثِ مبارَک بِالکل اپنے ظاہِری معنیٰ پر ہے کسی تاویل کی ضَرورت نہیں۔جیسے ہمارا پیٹ مکّھی والا کھانا (جبکہ مکّھی اُس میں موجود ہو )قَبول نہیں کرتا۔ایسے ہی شیطان کا مِعدہ بسم اللہ والا کھانا ہَضْم نہیں کر پاتا ۔ اگر چِہ اُس کا قے کیا ہوا کھانا ہمارے کام نہیں آتا ،مگر مردود بیمار پڑ جاتا ہے اور بھوکا بھی رَہ جاتا ہے اور ہمارے کھانے کی فوت شدہ بَرَکت لوٹ آتی ہے ۔ غرضیکہ اس میں ہمارا فائدہ ہے اور شیطان کے دو نقصان اور ممکن ہے کہ وہ مردود آئندہ ہمارے ساتھ بِغیر بسم اللہ والا کھانا بھی اس ڈر سے نہ کھائے کہ شاید یہ بیچ میں بسم اللہ پڑھ لے اور مجھے قے کرنی پڑ جائے۔ حدیثِ پاک میں جس آدمی کا ذِکْر ہے غالِباً وہ اکیلا کھا رہا تھا اگر حُضورِ اکرم صلی اللہ تعالیٰ