کھانے پینے سے قَبْل بسم اﷲ پڑھنا سنَّت ہے۔ حضرتِ سیِّدُنا حُذَیْفہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ تاجدار ِ مدینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے کہ جس کھانے پر بسم اﷲ نہ پڑھی جائے وہ کھاناشیطان کے لئے حَلال ہو جاتا ہے (یعنی بسم اﷲ نہ پڑھنے کی صُورت میں شیطان اُس کھانے میں شریک ہو جاتا ہے۔ )
(صحیح مُسلم ج ۲ ص ۱۷۲ رقم الحدیث۲۰۱۷)
کھانے سے پہلے بسم اﷲ نہ پڑھنے سے کھانے میں بے بَرَکتی ہوتی ہے۔ حضرت سیِّدُنا اَبُو ایُّوب اَنصْاری رضی اﷲ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں ، ہم تاجدارِ رسالت ، ماہِ نُبُوَّت، مالکِ کوثر وجنّت، محبوبِ ربُّ العزّت عَزَّوَجَلَّ و صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی خدمتِ سراپا رَحْمت میں حاضِر تھے۔کھانا پیش کیا گیا، اِبتِداء میں اِتنی بَرَکت ہم نے کسی کھانے میں نہیں دیکھی مگر آخِر میں بڑی بے بَرَکتی دیکھی ۔ ہم نے عرض کی ، یارسولَ اﷲ ! عَزَّوَجَلَّ و صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ایساکیوں ہوا ؟ ارشاد فرمایا، ہم سب نے کھانا کھاتے وَقْت بسم اﷲ پڑھی تھی ۔ پھر ایک شخص بِغیر بسم اﷲ پڑھے کھانے کو بیٹھ گیا، اُس کے ساتھ شیطان نے کھانا کھا لیا۔
(شَرْحُ السُنَّہ ج ۶ ص ۶۲ رقم الحد یث ۲۸۱۸)