(ابوداو،د شریف ج ۳ ص ۱۳۲ رقم الحدیث ۳۱۱۶)
فضل و کرم جس پر بھی ہُوا اُس نے مرتے دَم کَلِمَہ
پڑھ لیا اور جنّت میں گیا لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللہ
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالیٰ علیٰ محمَّد
ایک مرتبہ دو شیاطین میں ملاقات ہوئی۔ایک شیطان خوب موٹاتازہ تھا ۔ جبکہ دوسرا دُبلاپتلا ۔ موٹے نے دُبلے سے پوچھا، بھائی! آخِر تم اتنے کمزور کیوں ہو؟اُس نے جواب دیا،میں ایک ایسے نیک بندے کےساتھ ہوں جو گھر میں داخِل ہوتے اور کھاتے پیتے وَقْت بِسمِ اﷲشریف پڑھ لیتاہے تو مجھے اُس سے دُور بھاگنا پڑتا ہے ۔ یار ! یہ تو بتاؤ ! تم نے بَہُت جان بنا رکھی ہے اِس میں کیا راز ہے؟ موٹابولا،''میں ایک ایسے غافِل شَخْص پرمُسلَّط ہوں جو گھر میں بِسمِ اﷲپڑھے بِغیر داخِل ہوجاتا ہے اور کھاتے پیتے وَقت بھی بسمِ اللہ نہیں پڑھتا لہٰذامیں اس کے ان تمام کاموں میں شریک ہو جاتا ہوں اور اس پر جانور کی طرح سُوار رہتا ہوں ۔ (یہ راز ہے میری صحّت مندی کا)''