Brailvi Books

فیضانِ بسم اللہ
34 - 167
فرمانِ مصطَفےٰ :(صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم)جس کے پاس میرا ذکر ہو اور وہ مجھ پر دُرُود شریف نہ پڑھے تو لوگوں میں وہ کنجوس ترین شخص ہے۔
آگ تھی یا باغ
ایک بد عقیدہ بادشاہ نے ایک خُدا  رسیدہ بُزُرگ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کوبَمَع رُفَقاء گَرِفتار کر لیا اور کہا کہ کرامت دکھاؤ ورنہ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کو ساتھیوں سمیت شہید کر دیاجائے گا۔ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اُونٹ کی مَینگنیوں کی طرف اشارہ کر کے فرمایا کہ ان کو اُٹھا لاؤ اور دیکھو کہ وہ کیا ہیں؟ جب لوگوں نے ان کو اٹھا کر دیکھا تو وہ خالِص سونے کے ٹکڑےتھے۔ پھر آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے ایک خالی پیالے کواٹھا کر گھمایا اور اَوندھا کر کے بادشاہ کو دیا تو وہ پانی سے بھرا ہوا تھا اور اوندھا ہونے کے باوُجُود اُس میں سے ایک قطرہ بھی پانی نہیں گِرا۔ یہ دو کرامَتیں دیکھ کر بدعقیدہ بادشاہ کہنے لگا کہ یہ سب نَظَر بندی اور جادو ہے۔ پھر بادشاہ نے آگ جلانے کاحُکم دیا ۔ جب آگ کے شُعلے بُلند ہوئے تو وہ بُزُرگ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اور اُن کے رُفَقاء آگ میں کود پڑے۔ ساتھ میں چھوٹے سے شہزادے کو بھی لیتے گئے، بادشاہ اپنے بچے کو آگ میں گرتے دیکھ کر اُس کے فِراق میں بے چَین ہو گیا، کچھ دیر کے بعد ننّھے شہزادے کو اس حال میں بادشاہ کی گود میں ڈال دیا گیا کہ اس کے ایک ہاتھ میں سیب اور دوسرے ہاتھ میں انار تھا۔ بادشاہ نے پوچھا ، بیٹا! تم کہاں چلے گئے تھے ؟ تو اُس نے کہا، میں ایک باغ میں تھا ، یہ دیکھ کر ظالم و بد عقیدہ بادشاہ کے درباری کہنے لگے اس کام کی کوئی حقیقت نہیں(یہ جادو ہے )بادشاہ نے کہا، اگر تم یہ زَہر کا پیالہ پی لو تو میں تمھیں سچّا
Flag Counter