Brailvi Books

فیضانِ بسم اللہ
33 - 167
فرمانِ مصطَفےٰ :(صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم) اُس شخص کی ناک خاک آلود ہو جس کے پاس میرا ذکر ہو ا وروہ مجھ پر دُرُود پاک نہ پڑھے۔
زَہرکیسا ہوتا ہے ؟ ''لوگوں نے آپ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کو دیا تو آپ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے
"بِسمِ اللہ ''
پڑھ کر کھا لیا۔
اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ
آپ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کو بال برابر بھی ضَرَر (یعنی نقصان)نہ پہنچا اور''کلبی'' کی روایت میں یہ ہے کہ ایک عیسائی پادری جس کا نام عبدُالْمَسِیح تھا۔ ایک ایسا زَہر لے کر آیا کہ اُس کے کھا لینے سے ایک گھنٹہ کے بعد موت یقینی ہوتی ہے ۔ آپ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے اُس سے زَہر مانگ کر اُس کے سامنے ہی
بِسْمِ اللہِ وَ بِاللہِ رَبِّ الْاَرْضِ وَ السَّمَاءِ بِسْمِ اللہِ الَّذِیْ لَایَضُرُّ مَعَ اسْمِہٖ دَاءٌ
پڑھا اور زَہر کھا گئے۔یہ منظر دیکھ کر عبدُالْمَسِیح نے اپنی قوم سے کہا،''اے میری قوم! انتِہائی حیرتناک بات ہے کہ یہ اتنا خطرناک زَہر کھا کر بھی زندہ ہیں، اب بہتر یِہی ہے کہ ان سے صُلْح کر لی جائے، ورنہ ان کی فَتْح یقینی ہے۔''یہ واقعِہ امیرُالْمُؤمِنِین حضرتِ سیِّدُناابوبکر صِدّیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دَورِ خِلافت میں ہوا۔
(مُلخَّص ازحُجَّۃُ اللہِ عَلَی الْعٰلَمِین ج۲ ص ۶۱۷)
اﷲ عَزَّوّجَلَّ کی اُن پر رَحمت ہو اور اُن کے صَدقے ہماری مغفِرت ہو۔
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !             صلَّی اللہُ تعالیٰ علیٰ محمَّد
    میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! دیکھا آپ نے ! سیِّدُنا خالِدبن ولیدرضی اﷲ تعالیٰ عنہ پر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کاکتنا خاص کرم تھا اور یقینا بِاِذْنِ اللہ یہ آپ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی کرامت تھی۔ کرامت کی بے شُمار اَقسام ہیں جن میں سے ایک قِسم ''مُہْلِکات ( یعنی ہلاک کر دینے والی اَشیاء)کا اثر نہ کرنا'' بھی ہے۔ اَولیاء ُ اللہ
رَحِمَہُمُ اللہُ تعالٰی
پر بھی زَہر وغیرہ اثر نہ کرنے کے واقِعات منقول ہیں چُنانچِہ
Flag Counter